ریاض : سعودی عرب اور خلیجی قیادت ٹرمپ کے ساتھ 10 امور پر بات کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچیں گے۔ یہ دوسری بار کرسی صدارت سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کا پہلا غیر ملکی دورہ ہو گا۔ یہ دورہ سعودی عرب اور خلیج کے ممالک کی جغرافیائی سیاسی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو اب نہ صرف علاقے میں استحکام کے لیے ایک اہم کھلاڑی بن چکے ہیں بلکہ ان کی اقتصادی طاقت اور اصلاحاتی اقدامات بھی عالمی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کے سعودی عرب اور خلیج کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں 10 اہم موضوعات شامل ہیں، جن میں علاقائی سلامتی، توانائی، دفاع اور اقتصادی تعاون نمایاں ترین ہیں۔ واشنگٹن عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر، سعودی عرب کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ "صدر ٹرمپ کا سعودی عرب اور خلیج کے ممالک کا دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے"۔ وزارت کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ تعاون عالمی مسائل کے حل کے لیے اہم ہے۔

کثیر جہتی شراکت داری

سعودی محقق منیف عماش الحربی کا کہنا ہے کہ "ریاض اور واشنگٹن کے درمیان شراکت داری ایک تزویراتی شراکت داری ہے جو سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس پہلوؤں پر مشتمل ہے ... امریکہ، سعودی عرب کا سب سے بڑا سیکیورٹی پارٹنر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون مشترکہ مفادات کو تقویت دیتا ہے اور عالمی و علاقائی استحکام کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے"۔

خطے کی سلامتی اور غزہ میں امن

امریکی محقق ٹام وریک کا کہنا ہے کہ "ٹرمپ کا دورہ ایک اہم موقع ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت سے اہم مسائل پر تفہیم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے"۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ "یہ دونوں ممالک علاقے کی سلامتی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے"۔

تعلقات میں توازن کی بحالی

ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سیاسی و فوجی تجزیہ کار رچرڈ وِٹز نے کہا کہ "یہ دورہ امریکی پالیسی میں توازن کی بحالی کا ایک قدم ہے، کیوں کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں کچھ کشیدگی آئی تھی"۔ وِٹز نے کہا کہ "ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ، توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور چین و روس کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے"۔

ریاض عالمی سطح پر ایک اہم مرکز

وِٹز نے کہا کہ "ٹرمپ کا سعودی عرب کا دوسرا دورہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب کا عالمی سطح پر کردار بڑھ چکا ہے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ "آج ریاض نہ صرف علاقائی فیصلہ سازی کا مرکز ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاری کا ایک اہم مقام بن چکا ہے اور عالمی استحکام کے لیے ایک اہم کھلاڑی ہے"۔
امریکی نیوز ویب سائٹ axios نے یہ خبر دی ہے کہ ریاض میں ہونے والی امریکی-خلیجی سربراہی ملاقات میں امریکی صدر ٹرمپ اپنے ملک کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی کا جائزہ پیش کریں گے، اور اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو واضح کریں گے۔ ان میں یوکرین کا بحران، غزہ کی صورت حال، یمن میں جنگ بندی کو مضبوط بنانا، اور شام میں اتحاد کو تقویت دینا شامل ہے، ساتھ ہی دفاع، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے نئے طریقہ کار پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں