عیدان الیگزینڈر کی رہائی تاریخی خبر ہے ... ٹرمپ کی حماس کے فیصلے کی ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز غزہ میں قید اسرائیلی نژاد امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر کی رہائی کے حماس کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے "تاریخی خبر" قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور غزہ میں جاری لڑائی کا خاتمہ ہو گا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان تمام افراد کے شکر گزار ہیں جن کی کوششوں سے یہ تاریخی خبر ممکن ہوئی۔ انھوں نے قیدی کی رہائی کو "نیک نیتی کی علامت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے یہ قدم اس خون ریز تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو گا۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے تمام ثالثوں، خصوصاً مصر اور قطر، کا شکریہ بھی ادا کیا جنھوں نے اس معاہدے میں کردار ادا کیا۔

اتوار کے روز حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر کو رہا کرے گی۔ یہ اعلان ان اطلاعات کے فوراً بعد سامنے آیا جن کے مطابق حماس کے کچھ رہنماؤں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت کی، جس میں جنگ بندی اور غزہ میں امدادی سامان کے داخلے جیسے امور زیر بحث آئے۔

حماس کے وفد کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی اور امریکی شہریت رکھنے والے فوجی عیدان الیگزینڈر کی رہائی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد جنگ بندی، سرحدی راہ داریوں کا کھولا جانا اور غزہ کے عوام تک امداد اور راحت رسانی پہنچانا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس فوری اور بھرپور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

ادھر ایک باخبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ اس اسرائیلی امریکی فوجی کی رہائی منگل کے روز عمل میں آئے گی۔

مصر اور قطر نے بھی حماس کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نیک نیتی کی علامت اور ایک ایسا مثبت قدم ہے جو فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دے گا۔ دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ قیدی کی رہائی جنگ بندی، دیگر قیدیوں اور زیر حراست افراد کی رہائی، اور غزہ میں امداد کے بلا تعطل داخلے کو ممکن بنانے کے لیے اہم موقع ہے تاکہ اس علاقے میں انسانی بحران کا تدارک کیا جا سکے۔

اسی ضمن میں امریکی خصوصی ایلچی، ایڈم بوہلر، نے حماس کے اس فیصلے کو "ایک مثبت پیش رفت" قرار دیا ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ تنظیم دیگر چار امریکی شہریوں کی باقیات بھی حوالے کرے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو اطلاع دی ہے کہ یہ غیر مشروط اقدام حماس کی جانب سے نیک نیتی کے اظہار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں