ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب علاقائی سلامتی، دفاع اور توانائی پر مرکوز ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان "سام ویر برگ" نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی متوقع دو روزہ خلیجی دورے کے دوران سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے جن میں علاقائی سلامتی، دفاع، توانائی، سرمایہ کاری اور باہمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو فروغ دینے جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اسٹریٹیجک شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اس دوران مختلف فریقوں کے ساتھ امریکی مفادات اور خطے میں واشنگٹن کی نئی ترجیحات پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ "اکسیئس" نے رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی ریاستوں کی قیادت صدر ٹرمپ کے ساتھ ریاض میں سربراہی اجلاس میں شرکت کرے گی۔ اجلاس کے دوران ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امریکی حکمتِ عملی، علاقائی امور میں امریکی شمولیت کا دائرہ کار اور پالیسی ترجیحات پر روشنی ڈالیں گے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو کئی علاقائی سکیورٹی خدشات اور توانائی کے تحفظ سے متعلق عالمی دباؤ کا سامنا ہے، اور امریکہ ان چیلنجز سے نمٹنے میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مضبوط ہم آہنگی چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں