ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو غزہ میں قحط کا شدید خطرہ ہے: غذائی تحفظ کے ماہرین کا انتباہ
اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ کے لوگوں کو بدترین حالات درپیش
غذائی تحفظ کے ماہرین نے پیر کو سختی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ناکہ بندی ختم اور اپنی فوجی مہم بند نہ کی تو غزہ کی پٹی قحط کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔
انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن بھوک کے بحران کی شدت پر ایک سرکردہ بین الاقوامی اتھارٹی ہے جس کے نتائج کے مطابق حالات تبدیل نہ ہونے کی صورت میں زیادہ تر ممکنہ منظرنامہ مکمل اور فوری قحط کا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا، تقریباً ڈیڑھ ملین فلسطینی بھوک کی "تباہ کن" سطح پر جبکہ دیگر ایک ملین بھوک کی "ہنگامی" سطح پر ہیں۔
خوراک کا اختتام، مایوس کن مناظر
غذائی سامان ڈرامائی طور پر ختم ہو رہا ہے۔ اب غزہ میں زیادہ تر لوگوں کے لیے کھانے کا واحد ذریعہ تیارشدہ کھانا فراہم کرنے والے خیراتی باورچی خانے ہیں لیکن وہ بھی رسد کی کمی کے باعث تیزی سے بند ہو رہے ہیں۔
روزانہ عوامی کچن کے باہر ہزاروں فلسطینیوں کا ہجوم ہوتا ہے جو دال یا پاستا لینے کے لیے ایک دوسرے کو دھکیلتے اور الجھتے ہیں۔
اتوار کو کچن میں انتظار کرتے ہوئے ریحام شیخ ال عید نے کہا، "ہم دھوپ میں چار پانچ گھنٹے قطار میں انتظار کرتے ہیں۔ یہ ہمیں تھکا دیتا ہے۔ آخر میں ہمارے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا، یہ سب کے لئے کافی نہیں ہے."
جنگی ہتھیار کے طور پر بھوک پر توجہ مرکوز کرنے والے انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایک تجزیہ کار کرس نیوٹن نے کہا، قحط کے اعلان کی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ پہلے سے بھوکے نہیں ہیں اور اعلان کو مصائب کے خاتمے کے لیے پیشگی لازمی شرط نہیں ہونا چاہیے۔ اسرائیلی حکومت حماس کو تباہ اور پٹی کو تبدیل کرنے کی کوشش کے تحت غزہ کے لوگوں کو بھوکا مار رہی ہے۔
اسرائیل کا نئے امدادی نظام کا مطالبہ
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ حماس پر رسد چھین لینے کا الزام لگاتے ہوئے اسرائیل کہتا ہے کہ جب تک اسے تقسیم پر کنٹرول فراہم کرنے والا نیا نظام نافذ نہ ہو جائے، وہ امداد واپس نہیں آنے دے گا۔
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل جس نئے نظام کا تصور پیش کر رہا ہے وہ غیر ضروری ہے، اس سے امداد سیاسی اور فوجی مقاصد کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال ہو گی اور فلسطینیوں کی وسیع ضروریات پوری نہیں ہوں گی۔
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایک نئے طریقہ کار پر کام کر رہا ہے جو جلد ہی ترسیل شروع کر دے گا لیکن اس نے اس کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں بتایا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے یہ کہہ کر اس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے کہ یہ منصوبہ انسانی ہمدردی کے معیارات پر پورا نہیں اترتا۔
پیر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعات، بنیادی ڈھانچے کے انہدام، زراعت کی تباہی اور امداد کی بندشوں کی وجہ سے غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو اب بھوک کی شدید سطح کا سامنا ہے۔
رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے سربراہ نے کہا، امداد کی ترسیل بحال کرنے میں کسی قسم کی تاخیر "ہمیں قحط کے قریب تر لے جائے گی۔"
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کیو یو ڈونگیو نے کہا، "اگر ہم عمل کرنے میں ناکام رہے تو گویا ہم حقِ خوراک برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں جو ایک بنیادی انسانی حق ہے۔"
قحط کے اعلان کے تین معیارات
پہلی بار 2004 میں صومالیہ میں قحط کے دوران قائم کردہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن میں اقوامِ متحدہ کی ایک درجن سے زائد ایجنسیاں، امدادی گروپ، حکومتیں اور دیگر ادارے شامل ہیں۔
اس نے صرف چند بار قحط کا اعلان کیا ہے: 2011 میں صومالیہ میں، جنوبی سوڈان میں 2017 اور 2020 میں اور گذشتہ سال سوڈان کے مغربی دارفور کے علاقے میں۔ خیال ہے کہ صومالیہ اور جنوبی سوڈان میں قحط سے دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ کسی علاقے کو اس صورت میں قحط زدہ قرار دیتا ہے جب کم از کم تین میں سے دو باتیں واقع ہوں: 20 فیصد گھرانوں میں خوراک کی شدید کمی ہو یا بنیادی طور پر وہ بھوکے مر رہے ہوں؛ چھے ماہ سے پانچ سال تک کے کم از کم 30 فیصد بچے غذائیت کی شدید قلت کا شکار ہوں یعنی وہ اپنے قد کے لحاظ سے بہت پتلے اور کمزور ہوں؛ اور ہر 10,000 میں کم از کم دو افراد یا پانچ سال سے کم عمر کے چار بچے روزانہ بھوک یا غذائیت کی قلت اور بیماری کے باہمی تعامل کی وجہ سے مر رہے ہوں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلی حد غزہ میں پوری ہو گئی جس کے مطابق 477,000 افراد یا آبادی کا 22 فیصد 11 مئی سے ستمبر کے آخر تک کی مدت کے لیے بھوک کی "تباہ کن" سطح پر اور مزید ایک ملین "ہنگامی" سطح پر ہیں یعنی انہیں خوراک میں بہت بڑے خلاء اور غذائیت کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
یہ اعداد و شمار اپریل میں اور چھے مئی تک جمع کیے گئے تھے۔ غذائی تحفظ کے ماہرین نے کہا ہے کہ لوگوں کو بھوک سے مرنے میں وقت لگتا ہے۔
رپورٹ میں مارچ 2024 میں شمالی غزہ میں قحط سے خبردار کیا گیا تھا لیکن اس کے اگلے ماہ اسرائیلی حملے میں سات امدادی کارکنان کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے امریکی دباؤ پر امداد کی اجازت دے دی تھی۔
غذائیت کی قلت میں اضافہ
امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ پوری جنگ میں اس وقت کی صورتِ حال سنگین ترین ہے۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی (او سی ایچ اے) نے جمعہ کے روز کہا کہ فروری سے غذائیت کی قلت کے لیے کلینک میں علاج کی غرض سے آنے والے بچوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے حالانکہ ان کے علاج کا سامان تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
امدادی گروپوں نے رسد کی کمی کے باعث خوراک کی تقسیم بند کر دی ہے۔ بہت سی کھانے کی اشیاء بازاروں سے غائب ہو چکی ہیں اور جو بچی ہیں، ان کی قیمتیں زیادہ تر کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ کاشت کاری کی زمین زیادہ تر تباہ یا ناقابلِ رسائی ہو گئی ہے۔ پانی کی تقسیم رفتہ رفتہ بند ہو چکی ہے جس کی بڑی وجہ ایندھن کی کمی ہے۔