امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج منگل کو سعودی عرب کے دو روزہ سرکاری دورے پر ریاض پہنچ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس دورے کو "تاریخی" قرار دیا ہے۔
اس دورے میں امریکی صدر قطر اور متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے، اور اس دوران کئی علاقائی، سیکیورٹی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
کل بدھ کے روز ایک مشترکہ امریکی-خلیجی سربراہی اجلاس منعقد ہو گا، جو امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان پانچواں اجلاس ہو گا۔
چار سابقہ اجلاس
اس سے قبل چار سربراہی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
پہلا اجلاس مئی 2015 میں کیمپ ڈیوڈ میں ہوا تھا، دوسرا اپریل 2016 میں، تیسرا مئی 2017 میں سعودی دار الحکومت ریاض میں صدر ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران اور چوتھا اجلاس جولائی 2022 میں ہوا تھا جس میں مصر، اردن اور عراق سمیت عرب ممالک نے بھی شرکت کی۔
ٹرمپ کا ریاض کا یہ دورہ اس بات کا عندیہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو خطے میں بلند جغرافیائی و سیاسی مقام حاصل ہو چکا ہے، اور ان کا اقتصادی وزن بھی نمایاں ہو چکا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے کل اعلان کیا کہ اس دورے میں خطے کے سلامتی کے مسائل، دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اور قابلِ تجدید توانائی جیسے تزویراتی امور زیرِ بحث آئیں گے۔
یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ان میں بالخصوص غزہ پر اسرائیلی جنگ، ایران-امریکہ مذاکرات، خطے میں "ایرانی محور" کی کمزوری، اور ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان پس پردہ تناؤ شامل ہے۔