غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے، مزید 100 افراد جاں بحق ، پورے پورے خاندان مار دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی میں صحت کے حکام نے آج اتوار کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں رات بھر غزہ کے مختلف حصوں میں کم از کم 100 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ثالثوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کیا ہے۔ غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان خلیل الدقران نے ٹیلی فون پر رائٹرز کو بتایا کہ ہمارے پاس کم از کم 100 جاں بحق ہیں۔ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے پورے پورے خاندان مارے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کل ہفتے کے روز "عربات جدعون " کے نام سے ایک نئی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں شدید حملے اور زمینی نقل و حرکت شامل ہیں۔ اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ جنگ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں اور تمام یرغمالیوں کی رہا کرایا جائے اور حماس کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

مصر، قطر اور امریکہ کے ثالثوں نے کل ہفتے کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کیا تھا۔ حماس نے صفر سے مذاکرات کی بحالی کی تصدیق کی تھی۔ تحریک کے رہنما محمود مرداوی نے کہا کہ بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات دوبارہ شروع کیے گئے ہیں اور بتایا کہ مذاکرات کا موجودہ دور تمام مسائل کے لیے کھلا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی پیش کردہ ایک تجویز پر مبنی ہیں جس میں فلسطینی فریق کی جانب سے ترامیم کی گئی ہیں۔ مذاکرات کے عمل سے باخبر ایک ذریعے نے وضاحت کی کہ موجودہ امریکی تجویز میں عارضی جنگ بندی کے بدلے متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے لیکن ابھی تک کسی حتمی فارمولے پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔

اسرائیل نے حماس پر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش میں دو مارچ کے آغاز سے غزہ میں طبی سامان، خوراک اور ایندھن کی ترسیل روک دی تھی۔ اسرائیل نے ایسے منصوبوں پر بھی اتفاق کیا تھا جن میں پورے غزہ کی پٹی پر قبضہ اور امداد پر کنٹرول شامل ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں