مشرق وسطیٰ

"مہلک خلل" ... قیدیوں سے دور خفیہ اجلاس محمد السنوار کی موت کا سبب بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی ٹی وی "چینل 14" نے اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ حماس کے اہم عسکری رہنما محمد السنوار ایک اجلاس کے دوران حملے میں ہلاک ہو گئے۔ حماس کے سابق مقتول سربراہ یحیی السنوار کے چھوٹے بھائی محمد السنوار کے ساتھ اجلاس میں حماس کے دس دیگر رہنما بھی شریک تھے۔ اس اجلاس کا سراغ اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے لگایا تھا۔

اسرائیلی اخبار "معاریف" نے لکھا ہے کہ ایک "سیکیورٹی کا ایک مہلک خلل" اسرائیل کو محمد السنوار تک پہنچانے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ محمد السنوار اپنے بڑے بھائی یحیی کی ہلاکت کے بعد حماس کے نمایاں عسکری رہنماؤں میں سے ایک بن چکے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمد السنوار نے ایک خفیہ اجلاس بلایا تھا جس میں کوئی شہری "قیدی" موجود نہیں تھا۔

اخبار کے مطابق، یہ ایک "مہلک غلطی" تھی کہ السنوار نے حماس کے عسکری ونگ کے اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ یورپی اسپتال کمپلیکس کے نیچے ایک سرنگ میں بند کمرے کا اجلاس طلب کیا، جہاں کوئی قیدی موجود نہیں تھا۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ "جب اسرائیل نے محسوس کیا کہ محمد السنوار یرغمالیوں سے علیحدہ ہو گیا ہے تو اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور حملہ کیا۔"

اس کے بعد، اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے فوری طور پر اس سرنگ کے داخلی راستوں پر شدید فضائی حملے کی منظوری دی، جو درجنوں بموں سے کیے گئے۔ اس کارروائی کو غزہ میں جاری تنازع کے رخ کو بدلنے والا ایک ممکنہ سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، اور شاید یہ حماس کے عسکری ونگ کے زوال کا آغاز بھی ہو۔

"معاریف" کے مطابق، حماس کے رہنماؤں نے خود کو قیدیوں کے ساتھ رکھا تاکہ وہ انسانی ڈھال کا کردار ادا کریں، جیسا کہ یحییٰ السنوار نے کیا تھا، جنھیں اسرائیل نے اکتوبر میں غزہ کے جنوبی حصے میں ہلاک کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، محمد السنوار نے حالیہ دنوں میں سخت گیر موقف اختیار کر لیا تھا اور وہ جاری مذاکرات کی مخالفت کر رہے تھے، جس کی وجہ سے حماس کے دیگر اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

بیرونی قیادت سے اختلافات

"معاریف" نے انکشاف کیا ہے کہ حماس کے رہنما محمد السنوار اور بیرون ملک مقیم قیادت کے درمیان شدید اختلافات، اسرائیل کے لیے ان کا پتہ لگانے اور انھیں ختم کرنے کے اہم اسباب میں شامل تھے۔

اخبار کے مطابق، محمد السنوار نے ایک "قاتل غلطی" کی جب انھوں نے اپنی آپریشنل سیل کی قیادت کے ساتھ ایک خفیہ اجلاس ان مقامات سے دور بلایا جہاں یرغمالی قید تھے، حالانکہ عام طور پر حماس کے رہنما انھیں بطور انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں۔

اسرائیل نے یرغمالیوں سے ان کی یہ عارضی علیحدگی موقع جان کر ایک درست فضائی حملہ کیا، جس میں اس سرنگ کو نشانہ بنایا گیا جہاں اجلاس ہو رہا تھا۔ یہ سرنگ خان یونس میں یورپی اسپتال کے احاطے کے اندر واقع تھی۔

محمد السنوار اسرائیلی خفیہ ادارے "شاباک" اور فوج کے انتہائی مطلوب افراد میں شمار ہوتے تھے، اور وہ سات اکتوبر 2023 کے حملے کے منصوبہ سازوں میں بھی شامل تھے۔ انھوں نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات میں کسی پیش رفت کی بھی مخالفت کی تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ حالیہ عرصے میں محمد السنوار نے اپنے سخت گیر موقف پر زور دیا، جس کی وجہ سے حماس کے اندرونی حلقوں میں بحران پیدا ہوا، خصوصاً ان بیرونی رہنماؤں کے ساتھ، جن سے امریکہ براہ راست مذاکرات کر رہا تھا اور محمد السنوار کو نظرانداز کر دیا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق، بیرونی قیادت نے اسرائیلی نژاد امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر کی رہائی کا فیصلہ کیا، جس پر محمد السنوار سخت ناراض ہوئے اور اسے اپنے اوپر زبردستی تھوپا گیا فیصلہ قرار دیا۔

اسی ناراضی کے تحت، السنوار نے اپنے عسکری ونگ کے رہنماؤں کو بغیر مکمل حفاظتی انتطامات کے، ایک وسیع اجلاس کے لیے بلا لیا۔ اس طرح اسرائیل کو ایک "سنہری موقع" مل گیا کہ وہ ان کا سراغ لگا سکے اور انھیں نشانہ بنا سکے۔

اسرائیلی میڈیا نے اتوار کے روز سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ انھیں محمد السنوار اور دیگر حماس رہنماؤں کی لاشیں ملنے کی رپورٹس کا علم نہیں ہے، جو خان یونس کے یورپی اسپتال پر فضائی حملے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، "ہم اب بھی حملے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں، اور سرکاری اعلان سے قبل کچھ نہیں کہا جا سکتا۔"

دوسری طرف، اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے ہفتے کے روز محمد السنوار کی ہلاکت کا عندیہ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size