پوپ لیو چہاردہم نے بدھ کے روز اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے۔ انہوں نے فلسطینی انکلیو کی صورتِ حال کو "مزید تشویشناک اور افسوسناک" قرار دیا۔
پوپ نے سینٹ پیٹرز سکوائر میں عمومی سامعین سے اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران کہا، "میں اپنی پرجوش اپیل کی تجدید کرتا ہوں کہ منصفانہ انسانی مدد کے داخلے کی اجازت دی جائے اور دشمنی ختم کی جائے جس کی تباہ کن قیمت بچے، بوڑھے اور بیمار ادا کرتے ہیں۔"
مرحوم پوپ فرانسس کی جگہ لینے کے لیے آٹھ مئی کو سابق کارڈینل رابرٹ پریوسٹ لیو کیتھولک چرچ کے رہنما منتخب ہوئے۔ وہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے ابتدائی ہفتوں میں کئی بار غزہ کی صورتِ حال کا ذکر کر چکے ہیں۔
اپنے پہلے اتوار کو 11 مئی کو ایک پیغام میں نئے پوپ نے فوری جنگ بندی اور حماس کے زیرِ حراست تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل نے پیر کو کہا کہ وہ غزہ میں 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد امداد کی اجازت دے دے گا لیکن اقوامِ متحدہ نے کہا کہ منگل تک کوئی امداد تقسیم نہیں کی گئی۔
لیو کی یہ اپیل برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کے اِس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے کہ ان کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ آزادانہ تجارتی مذاکرات روک دیئے اور غزہ کی صورتِ حال پر برطانیہ میں اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا ناکہ بندی کا مقصد فلسطینی مزاحمت کاروں کو امدادی رسد کا رخ موڑنے اور ضبط کرنے سے روکنا ہے۔ حماس نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔