فلسطینی وزیر صحت نے جمعرات کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے اڑھائی ماہ سے زیادہ عرصے پر پھیلی خوراک کی ناکہ بندی سے غزہ میں یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ کم از کم 29 بچے اور بوڑھے بھوکے رہ کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
پچھلے کئی ہفتوں سے انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی ادرارہ خوراک، اقوام متحدہ کے دیگر ادارے اسی امر کی طرف نشاندہی کر رہے تھے کہ غزہ میں طویل عرصے سے خوراک کی ناکہ بندی اسرائیلی فوج نے جاری کر رکھی ہے جو کسی بڑے انسانی المیے کا باعث بن سکتی ہے۔
ان اداروں کے مطابق تقریباً 23 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہری بھوک اور قحط کی زد میں ہیں۔ جنہیں اسرائیل نے کم از کم اڑھائی ماہ سے زائد عرصہ سے خوراک، پانی، ادویات سمیت دیگر بنیادی ضروریات سے محروم کر رکھا ہے اور دو مارچ سے غزہ کی ناکہ بندی جاری ہے۔
جمعرات کے روز توقع کی جا رہی تھی کہ غزہ میں کچھ خوراک یا امدادی سامان پہنچ سکے گا اور محدود سہولت کے لیے اسرائیل ناکہ بندی کو کچھ دیر کے لیے نرم کر دے گا۔ تاہم ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔
غزہ میں کام کرنے والی فلسطینی ہلال احمر نے بھی جمعرات کے روز ہی اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ابھی تک غزہ میں کسی ایک فرد کو بھی ناکہ بندی کے خاتمے کے اعلان کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔
وزیر صحت ماجد ابو رمضان نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ پچھلے دو دنوں میں 29 بچے اور بوڑھے اس بھوک کی وجہ سے ہم نے کھو دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں خالصتاً بھوکا رہنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان میں بچوں کے علاوہ بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو مسلسل بھوک کا سامنا نہیں کر سکے۔
اس سے پہلے اقوام متحدہ کے امدادی شعبے کے سربراہ نے 'بی بی سی' کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کم از کم 14 ہزار بچوں کی زندگیاں بھوک و قحط کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔
ابو رمضان نے یہ بھی کہا کہ 36 ہسپتالوں میں سے غزہ میں صرف سات یا آٹھ ہسپتال محض جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔