سعودی یونیورسٹی نے تازہ پھل سبزیوں کی خرابی کا عمل کم کرنے کے لیے سینسر تیار کر لیا
یونیورسٹی نے آلے کو امریکی پیٹنٹ آفس میں رجسٹر کروا لیا
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شاہ فیصل یونیورسٹی کے محققین نے ایک کم قیمت والا سمارٹ سینسر تیار کیا ہے جس کا مقصد تازہ پھل سبزیوں میں خرابی کے عمل کو کم کرنا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی نے جمعرات کو اطلاع دی کہ یہ آلہ جو اب یو ایس پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں رجسٹرڈ ہے، اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ نقل و حمل اور سٹوریج کے دوران جلد خراب ہونے کی پیش گوئی کی جا سکے۔
شاہ فیصل یونیورسٹی (کے ایف یو) کے کالج آف سائنس کی ایک ٹیم کا تیار کردہ یہ آلہ غیر مستحکم نامیاتی مرکبات خاص طور پر ایتھیلین گیس کا پتہ لگاتا ہے جو تازہ پھل سبزیوں میں خرابی کے آغاز کا ایک اہم اشارہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے، "کومپیکٹ اور ہلکا پھلکا آلہ پروٹو ٹائپ ریفریجریشن یونٹس یا ٹرانسپورٹ کنٹینرز میں بآسانی نصب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔"
چونکہ ڈیوائس کو انٹرنیٹ آف تھنگس کے نیٹ ورکس سے منسلک کیا جا سکتا ہے تو غذائی اشیاء کی فراہمی سے وابستہ افراد حقیقی وقت میں فاصلاتی نگرانی کر سکتے ہیں اور انہیں غذائی اشیاء میں خرابی کے ابتدائی انتباہات مل سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے چیزوں کو ٹھنڈا رکھنے اور تقسیم کرنے کے نظام میں ضم کیا جا سکتا ہے جو خوراک اور نقل و حمل کے شعبوں کے لیے ایک عملی حل پیش کرتا ہے۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ آلے کو کے ایف یو نے گذشتہ دسمبر میں ریاض میں اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے صحرا بندی کی 16ویں کانفرنس کے دوران پیش کیا تھا۔
ایس پی اے نے اطلاع دی کہ "سمارٹ زراعت میں معاونت کرنے اور فراہمی کے دوران خوراک کے ضیاع کو کم از کم کرنے کے لیے عملی افادیت" کی بنا پر سرمایہ کاروں نے اس میں خاصی دلچسپی لی ہے۔