سوئٹزر لینڈ میں کام کرنے والی ایک 'این جی او' نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی حمایت سے چلنے والی 'جی ایچ ایف' کے بارے میں تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ یہ غزہ میں امداد کی تقسیم کا ایک نیا منصوبہ متعارف کرا رہی ہے جس کی اقوام متحدہ نے حمایت نہیں کی ہے۔
اقوام متحدہ نے 'جی ایچ ایف ' کے اس نئے امدادی پروگرام کو جانبدار قرار دیا ہے۔ جس کی وجہ سے فلسطینیوں کو مزید نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ جبکہ ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
جبکہ امریکی فاؤنڈیشن کو کامل اعتماد ہے کہ وہ اپنے منصوبے کے مطابق مئی کے اواخر تک کام شروع کر سکے گی۔ یاد رہے یہ منصوبہ اسرائیل کو قبول ہے۔ اس نے منصوبے کے بروئے کار آنے تک بہت ہی محدود مقدار میں امدادی سامان غزہ جانے کی اجازت دی ہے۔
'ٹریال انٹرنیشل' نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اس نے دو قانونی درخواستیں کی ہیں کہ سوئس حکام ' جی ایچ ایف ' کے بارے میں تحقیقات کرائیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق امور کا جائزہ لیا جائے۔
ان میں سے ایک درخواست 20 مئی کو سوئس فیڈرل سپروائزری اتھارٹی کو دی گئی ہے جبکہ دوسری درخواست 21 مئی کو سوئس فیڈرل ڈیپارٹمنٹ آف فارن افیئرز کو دی گئی ہے۔
تاہم سوئٹزر لینڈ کے دونوں متعلقہ شعبوں نے اس بارے میں کوئی تصدیق یا تبصرہ نہیں کیا ہے۔ جبکہ 'ٹریال' کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فلپ گرانٹ کے مطابق ان کی 'این جی او' نے صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ حکام جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی رو سے 'جی ایچ ایف' کا جائزہ لیں۔
دوسری جانب امریکی فاؤنڈیشن نے سوئس قانون کے تحت نجی سیکیورٹی کمپنیوں سے مدد لی ہے کہ وہ غزہ میں امدادی سامان تقسیم کریں۔ امریکی فاؤنڈیشن ' جی ایچ ایف ' نے 'روئٹرز' کو بتایا ہے کہ اس نے سوئس نجی سیکیورٹی کمپنیوں کی مدد سے امداد تقسیم کرنے میں ایک مختلف فریم ورک استعمال کیا جائے گا۔ تاکہ حماس اور دوسرے جرائم پیشہ عناصر سے امداد محفوظ رکھی جا سکے۔