گزرگاہوں کو کھولا جائے اور غزہ میں امداد داخل کی جائے : فلسطینی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں غذائی امداد کی تقسیم کے دوران پیدا ہونے والی شدید بد نظمی کے بعد، فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے بدھ کے روز عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور سرحدی گزرگاہوں کو کھولنے کے سلسلے میں اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کرے۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ "غزہ میں ہزاروں شہریوں کا غذا کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنا انسانیت کے ماتھے پر بد نما داغ ہے، اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ بیس لاکھ سے زایدہ فلسطینیوں کے درمیان قحط کی کیفیت عام ہو چکی ہے ... اس لیے کہ 2 مارچ سے گزرگاہیں بند ہونے کے سبب خوراک اور ادویات کی رسائی ممکن نہیں رہی، اور عالمی برادری اسرائیلی حکومت کو قابض قوت کی حیثیت سے اپنے انسانی فرائض کی بجا آوری پر مجبور کرنے میں ناکام رہی ہے"۔

بیان میں اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ غزہ میں قحط کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے اور یہ سارا اقدام وہاں سے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔

وزارت نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ "جنگ بندی، قتل و غارت، جبری نقل مکانی، غیر قانونی قبضے کو روکنا، یرغمالیوں و قیدیوں کی رہائی، اور پائے دار انسانی امداد کی ترسیل، نیز غزہ کی قانونی فلسطینی اداروں کے تحت واپسی ہی عام شہریوں کے تحفظ اور امن کی بحالی کا واحد راستہ ہے، جو کہ سیاسی حل کے لیے مذاکرات کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے"۔

رفح میں افراتفری

گذشتہ روز "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن" کی جانب سے رفح شہر میں امداد کی تقسیم کے دوران شدید بد نظمی دیکھی گئی۔ ہزاروں فلسطینی ایک نئے امدادی مرکز کی طرف دوڑ پڑے جو امریکی حمایت یافتہ اس ادارے کی جانب سے مغربی رفح میں قائم کیا گیا ہے۔ اسرائیل نے امداد کی تقسیم کے لیے یہ ایک نیا نظام نافذ کیا ہے۔

ادارے نے بعد میں اعلان کیا کہ واقعے کے بعد امدادی سرگرمیاں معمول پر آ گئی ہیں۔

تنقید

اس ادارے کو اس کے امدادی مراکز کے انتخاب پر تنقید کا سامنا ہے، کیوں کہ دیگر امدادی تنظیموں کے مطابق، "محفوظ مقامات" کے انتخاب کے نام پر شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

ادھ ر"ایکشن ایڈ" سمیت کئی غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ "ایسی امداد جو مسلسل تشدد پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کی جائے، وہ درحقیقت امداد نہیں، بلکہ ایک عسکری حکمتِ عملی کو انسانی چہرہ دینے کی کوشش ہے۔"

ادارے کی جانب سے وضاحت دی گئی کہ ایک موقع پر امداد کے متلاشی افراد کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تھی، جس کے باعث ٹیم کو پیچھے ہٹنا پڑا تاکہ امداد محفوظ طریقے سے تقسیم کی جا سکے اور کوئی زخمی نہ ہو۔

اس کے ساتھ ہی "سیف رِچ سلوشنز"، جو کہ زمینی سطح پر امداد پہنچانے والی ایک امریکی نجی سیکیورٹی کمپنی ہے، کو بھی عملے کی کمی اور اس پیچیدہ کام کے لیے نا کافی تیاری پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتائی۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے جنوبی غزہ میں ہزاروں افراد کے امدادی مقام پر جمع ہونے کے مناظر کو "دل خراش" قرار دیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب اسرائیل نے 2 مارچ سے نافذ سخت محاصرے میں جزوی نرمی کرنا شروع کی ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں خوراک، ادویات، پانی، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہو چکی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں