اقوام متحدہ نے غزہ میں امدادی مراکز پر فلسطینی شہریوں کے قتل کی مذمت دہراتے ہوئے ان واقعات کو منظم اور سنگین قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور ٹوم فلیچر نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ امدادی اشیاء کی تقسیم کے مراکز پر فلسطینیوں کا قتل کسی طور "انفرادی واقعات" نہیں سمجھے جا سکتے۔
روزانہ دل دہلا دینے والے مناظر
انہوں نے کہاکہ "دنیا روزانہ خوفناک مناظر دیکھ رہی ہے جہاں فلسطینی صرف کھانے کے حصول کی کوشش میں گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ یا تو جان سے جا رہے ہیں یا شدید زخمی ہو رہے ہیں"۔
ٹوم فلیچر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ ان واقعات کی "آزاد، فوری اور شفاف تحقیقات" کی جائیں۔
انہوں نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں طبی ایمرجنسی ٹیمیں سینکڑوں زخمیوں کا علاج کر رہی ہیں۔
فوجی کارروائیاں دانستہ فیصلوں کا نتیجہ
فلیچر کے مطابق، تین جون کو درجنوں فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی، جنہیں اسرائیلی فوج نے گولی مار دی۔ انہوں نے کہا: "یہ واقعات ایک ایسے سلسلے کا نتیجہ ہیں جس میں منظم انداز میں دو ملین افراد کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا"۔
اقوام متحدہ نے امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر زور دیا تاکہ غزہ کے عوام کو فوری مدد پہنچائی جا سکے۔
مزید 65 فلسطینی جاں بحق
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ترجمان، جیرمی لارنس نے 3 جون کو بتایاتھا کہ جون کے ابتدائی تین دنوں میں 65 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ یہ تمام افراد "فلسطین انسانی فاؤنڈیشن" (جی ایچ ایف) کے زیر اہتمام امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
"جی ایچ ایف" نے 26 مئی سے غزہ میں امدادی سرگرمیاں شروع کی تھیں، جن کا مقصد ایک ملین متاثرہ افراد کو امداد فراہم کرنا تھا۔
تاہم امداد کی تقسیم کے دوران بد نظمی کے ساتھ ساتھ فائرنگ کے کئی واقعات پیش آئے، جن میں درجنوں بے گناہ شہری مارے گئے۔