سعودی عرب : یونیورسٹی کے استاد کا چاقو کے واروں کے ذریعے بہمیانہ قتل
قاتل فوری طور پر مصر فرار ہونے کی کوشش میں تھا، مگر سیکیورٹی اداروں نے روانگی سے پہلے ہی اسے گرفتار کر لیا
گزشتہ جمعرات کو سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کی تفصیل سامنے آئی ہے۔ واقعے میں ایک یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر عبد الملک قاضی کو ایک مصری باشندے نے ان کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔ مقتول کے ایک عزیز کے مطابق یہ شخص اکثر ان کے گھر کھانے پینے کی چیزیں پہنچایا کرتا تھا، کیوں کہ ڈاکٹر عبد الملک کی طبیعت ایسی تھی کہ وہ خود باہر نہیں جا سکتے تھے۔
قاتل نے سیکیورٹی گارڈ کو دھوکہ دیا کہ وہ گھر کا سامان لایا ہے تاکہ اندر جا سکے۔ جیسے ہی وہ فلیٹ میں داخل ہوا، اس نے اچانک ڈاکٹر عبد الملک پر مختلف جگہوں پر 10 چاقو کے وار کیے۔ پھر اس نے ان کی بیوی کو بھی چار مرتبہ چاقو مارا۔ خاتون نے قاتل سے منت سماجت کی، پیسے بھی دیے، مگر وہ نہ رکا۔ ان کی بیوی ابھی بھی اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں۔
#السعودية.. تعاطف وعزاء في حادثة مقتل د. #عبدالملك_قاضي وعائلته توضح التفاصيل..
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 6, 2025
عبر:@nourah_alnaimi pic.twitter.com/Hx3DcELrGX
ڈاکٹر عبد الملک کے قریبی عزیز نے بتایا کہ وہ قاتل کے ساتھ بہت اچھے سلوک سے پیش آتے تھے، اس کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔ تاہم اس نے انتہائی بے رحمی سے اپنے محسن کی جان لے لی۔
مزید یہ کہ جب قاتل فرار ہونے لگا تو زخمی خاتون نے سیکیورٹی گارڈ کو اطلاع دی، جس نے اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن قاتل نے گارڈ کو بھی چاقو مارا اور پھر بھاگ نکلا۔
قاتل بعد میں مصر فرار ہونے کے لیے ہوائی اڈے پہنچا، مگر سعودی سیکیورٹی اداروں نے روانگی سے پہلے ہی اسے گرفتار کر لیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق، اس قتل کی وجہ چوری تھی، کیوں کہ قاتل پر اپنے ملک میں مالی قرض تھا۔
ڈاکٹر عبد الملک قاضی، جو ماضی میں جامعہ ملک فہد برائے پٹرولیم و معدنیات میں پروفیسر رہے، اور حدیث نبوی پر کئی کتابوں کے مصنف تھے، ان کی نماز جنازہ ظہران میں ادا کی گئی۔