اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف اپنی جنگ کے دوسرے روز کہا ہے کہ اس نے ایران کے مغربی حصے سے تہران تک فضائی حدود کا کنٹرول اپنے حق میں کر لیا ہے اور اب اس کے لڑاکا طیارے آزادانہ ان فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران پر اس کے 70 لڑاکا طیاروں نے حملے کیے۔
فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین کا کہنا ہے کہ ایک دن کی کارروائیوں کے نتیجے میں اسرائیلی فوج اس پوزیشن میں آگئی ہے کہ وہ ایران کے مغربی حصے سے تہران تک آزادی سے اپنی کارروائیاں کر سکے۔
خیال رہے یہ علاقہ عراق سے جڑا ہوا ہے اور تہران تک اس کا فیصلہ 450 کلومیٹر ہے۔
فوجی ترجمان نے کہا 'ایرانی دارالحکومت تہران اب بالکل محفوظ نہیں رہا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ہماری جنگی مہم کے دوسرے روز 70 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات بھر تہران میں 40 اہداف کو نشانہ بنایا۔
فوجی ترجمان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کو اپنے جنگی طیاروں کے ساتھ ان فضائی حدود میں آزادانہ پروازوں کا موقع ملا ہے اور ایران کے اندر گہرا نفوذ کیا جا چکا ہے۔
ڈیفرین نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز سے اب تک ایران میں 200 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے پہلے مرحلے پر 78 ایرانی ہلاک اور 320 زخمی ہوئے تھے۔
ادھر ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین مختلف عمارات اور اہداف کو نشانہ بنایا اور تل ابیب تک ایرانی میزائل پہنچے۔ تاہم اسرائیل کا جانی نقصان انتہائی کم ہے، اب تک کی رپورٹ کے مطابق صرف 3 اسرائیلیوں کی ہلاکت اور 70 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
-
ایران کا اسرائیل کا ایک اور طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، تل ابیب نے تردید کر دی
اسرائیلی ایف-35 طیارے کو مغربی ایران میں نشانہ بنانے کا دعویٰ، پائلٹ کی تلاش ...
بين الاقوامى -
ایران کے جدید ترین ڈرونز "شاہد 129" اور "شاہد 136" اسرائیل پر حملوں میں شامل
ان ڈرونز کو ایران پہلے بھی شام، یمن اور عراق میں استعمال کر چکا ہے
بين الاقوامى -
متحدہ عرب امارات کی اسرائیلی حملے کی مذمت، مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستے پر زور
عبداللہ بن زاید کا ایرانی ہم منصب عباس عراقجی سے رابطہ، خطے کی صو رت حال پر تبادلہ ...
بين الاقوامى