ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تصادم نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اسی پس منظر میں امریکی سینیٹر ٹِم کین، جو کہ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے ایک نیا قانون سینیٹ میں پیش کیا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی طاقت استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔
سینیٹر کین کئی برسوں سے یہ کوشش کرتے آ رہے ہیں کہ جنگ سے متعلق فیصلے صرف کانگریس کی اجازت سے ہوں۔ اُنھوں نے 2020 میں بھی ایسا ہی قانون پیش کیا تھا جو ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں اسرائیل-ایران کشیدگی کے دوران پیش کیا گیا، لیکن وہ ٹرمپ کے ویٹو کے باعث نافذ نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے مطابق صرف کانگریس کو اعلانِ جنگ کا اختیار حاصل ہے اور ایران کے ساتھ کسی بھی فوجی تصادم کے لیے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہے۔
کین نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکا کے قومی مفاد میں نہیں، جب تک کہ وہ بالکل نا گزیر نہ ہو۔ اُنھیں خدشہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع امریکا کو ایک ایسی طویل اور ختم نہ ہونے والی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملے کا وقت جان بوجھ کر چُنا تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری پروگرام پر طے شدہ مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہیے، کیونکہ آئین کے مطابق کوئی بھی حملہ صرف کانگریس کی اجازت سے ہو سکتا ہے۔
ادھر ریپبلکن جماعت کے چند اراکین جیسے رینڈ پال اور تھامس میسی نے بھی جنگ سے گریز کی بات کی ہے، مگر اکثریت صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ سینیٹر لنڈسی گراہم نے زور دیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہو جائے تو امریکا کو اسرائیل کی مکمل مدد کرنی چاہیے، حتیٰ کہ اُس کے لیے بم بھی فراہم کیے جائیں تاکہ ایران کے خلاف کارروائی کو مکمل کیا جا سکے۔
یہ تمام بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل نے جمعے کے روز ایران پر حملے شروع کیے، جن کا مقصد اُس کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو تباہ کرنا بتایا گیا ہے۔ ایران نے جوابی حملے کیے، جن میں اسرائیل میں متعدد افراد مارے گئے، جب کہ ایران میں بھی سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس تمام صورت حال نے دنیا بھر، خصوصاً مغربی ممالک اور امریکا میں یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ یہ جنگ صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہے گی، بلکہ پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے ... جس سے امریکا کا براہِ راست ملوث ہونا بعید نہیں۔ اس لیے کانگریس میں یہ آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ صدر کے جنگی اختیارات پر پابندی لگائی جائے تاکہ امریکا غیر ضروری طور پر ایک نئی اور خطرناک جنگ میں داخل نہ ہو۔