اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے دھمکی دی ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہوا تو وہ طاقت کا استعمال کریں گے۔ تل ابیب حماس کی شرائط کو مسترد کرتا ہے۔ ساعر نے اپنے آسٹریا کے ہم منصب وزیر خارجہ بیٹ مینل کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ہم غزہ میں کسی معاہدے پر نہیں پہنچے تو ہم طاقت کا استعمال کریں گے۔ ہم اس وقت تک جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کی شرائط کو قبول نہیں کریں گے جب تک کہ وہ غزہ پر مؤثر طریقے سے کنٹرول برقرار رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا غزہ پر وِٹکوف کی تجویز سے انسانی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ یاد رہے اس تجویز کو حماس اب تک مسترد کر چکی ہے۔ ساعر نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات ہیں، کہا کہ حماس اپنی شرائط عائد کرنے کے لیے یرغمالیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے دو ریاستی حل کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے اسرائیل کی ریاست کی سلامتی کو خطرہ ہو گا۔ حماس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے ثالثوں اور فلسطینی تحریک کے درمیان رابطے تیز ہو گئے ہیں۔ انہوں نے نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات کو مسلسل تعطل کا شکار کیے ہوئے ہے۔
حماس کے رہنما محمود عباس کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے کہا ہے کہ مصر اور قطر میں ہمارے ثالث بھائیوں کے ساتھ ہمارے رابطے رکے نہیں ہیں اور حالیہ گھنٹوں میں مزید تیز ہو گئے ہیں۔ حماس جنگ کو روکنے اور معاہدے تک پہنچنے کی کسی بھی مخلصانہ کوشش کا خیرمقدم کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحریک ایک ایسا معاہدہ چاہتی ہے جس کی بنیاد پر ایک جامع ڈیل ہو جس سے دشمنی کا مستقل خاتمہ ہو، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا ہو، امداد کا داخلہ ہو اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہو۔
ٹرمپ کا غزہ معاہدہ کرنے پر زور
دریں اثنا اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں ایک بے مثال، بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی پٹی میں زیر حراست افراد کی واپسی کے لیے حماس کے ساتھ ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر کہا کہ غزہ پر ایک معاہدہ کریں اور اسیروں کو واپس کر دیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جنگ میں غزہ کی پٹی میں 56,500 افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔ شہدا میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔