شام اور لبنان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں دل چسپی ہے، جولان پر بات نہیں ہو گی : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر کہا کہ ان کا ملک شام اور لبنان کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں دل چسپی رکھتا ہے۔

جولان کا استثنا

ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل کسی بھی امن معاہدے میں شامی جولان کی قسمت پر مذاکرات نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ساعر نے گزشتہ ہفتے کے روز واضح کیا تھا کہ جولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کی موجودگی شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

انھوں نے "آئی نیوز 24" چینل سے گفتگو میں کہا کہ شام کی جانب سے جولان پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کیا جانا، شام کے صدر احمد الشرع کے ساتھ مستقبل کے کسی معاہدے کی پیشگی شرط ہے۔

ساعر نے کہا "اگر اسرائیل کو شام کے ساتھ کسی امن معاہدے یا تعلقات کی بحالی کا موقع ملتا ہے، بشرطیکہ جولان ہماری خود مختاری میں رہے، تو یہ اسرائیلی عوام کے مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم ہو گا۔"

دوسری جانب، اسرائیلی چینل نے ایک با خبر شامی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل اور شام کے درمیان 2025 کے اختتام سے قبل ایک امن معاہدہ طے پا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، اس معاہدے میں اس بات کی شق موجود ہے کہ اسرائیل ان تمام شامی علاقوں سے بتدریج دست بردار ہو گا، جن پر اس نے 8 دسمبر 2024 کو غیر جانب دار علاقے میں داخل ہونے کے بعد قبضہ کیا تھا، ان میں جبل الشیخ کی چوٹی بھی شامل ہے۔ ساتھ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ جولان کی پہاڑیاں "امن کے باغ" میں تبدیل کی جائیں گی، تاہم حتمی خود مختاری کے معاملے کی وضاحت نہیں کی گئی۔

یہ اعلان اسرائیلی وزیر خارجہ کی جانب سے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی صدر احمد الشرع نے حال ہی میں کہا کہ نئی شامی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ جنوب مغربی صوبے قنیطرہ کے محفوظ علاقوں پر اسرائیلی حملے روکے جائیں۔

گزشتہ ہفتے صدارتی دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی حملے روکنے کے لیے بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ صدر الشرع نے قنیطرہ اور جولان کے عمائدین اور معززین سے ملاقات کی ہے۔

فضائی حملے اور در اندازی

واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد سے اب تک اسرائیل شامی فوج کے فضائی، بحری اور زمینی ٹھکانوں پر درجنوں فضائی حملے کر چکا ہے۔

اسی دوران اسرائیلی افواج غیر جانب دار علاقے میں داخل ہوئیں ... اور وہ جولان کی پہاڑیوں، جبل الشیخ اور شام کے جنوبی علاقوں میں اپنی موجودگی بڑھا چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں