اسرائیل کے دفاعی سربراہ کی حوثیوں کے میزائلوں کا جواب دینے کی دھمکی
"یمن کا حشر بھی تہران جیسا ہی ہو گا": اسرائیل کاٹز
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا جب ان کے ملک کی فوج نے یمن سے اسرائیلی سرزمین کی طرف داغا گیا میزائل روک لیا۔
کاٹز نے ایران کے ساتھ 12 روزہ تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا، "یمن کا حشر بھی تہران جیسا ہی ہو گا۔" اسرائیل نے گذشتہ ماہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو نشانہ بنایا تھا۔
بیان میں کہا گیا، "تہران میں سانپ کا سر کچلنے کے بعد ہم یمن میں حوثیوں پر بھی حملہ کریں گے۔ جو بھی اسرائیل پر ہاتھ اٹھائے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔"
حوثی ملیشیا نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے ایک ایئرپورٹ اور دیگر "حساس" اسرائیلی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے چار کارروائیاں کیں۔
اسرائیل نے حوثی ملیشیا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل پر حملے جاری رہے تو بحری اور فضائی ناکہ بندی کر دی جائے گی۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے جو درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، ان میں سے زیادہ تر روک لیے گئے یا وہ درست مقام تک نہ پہنچ سکے۔ اسرائیل نے جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
اسرائیل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر مائیک ہکابی نے ایکس پر پوسٹ کیا: "ہم نے سوچا کہ اسرائیل پر داغے گئے حوثی میزائلوں کا سلسلہ ختم ہو گیا لیکن انہوں نے ابھی ایک اور حملہ کیا ہے۔ خوش قسمتی سے اسرائیل کے ناقابلِ یقین مداخلتی نظام کا مطلب ہے کہ ہم پناہ گاہ میں چلے جائیں اور سب کچھ درست ہونے تک انتظار کریں۔ شاید ان بی ٹو بمبار طیاروں کو یمن بھیجنے کی ضرورت ہے"۔
بی ٹو بمبار طیاروں کو اڑانے والے امریکی پائلٹ 12 روزہ فضائی جنگ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں شامل تھے۔