اسرائیلی حملے کے دوران ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کو تیار تھا: ذرائع

رائٹرز کے مطابق دونوں امریکی عہدے داران نے بتایا کہ یہ تیاریاں، جن کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی اور جنھیں امریکی انٹیلی جنس نے دریافت کیا، اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران پر ابتدائی میزائل حملے کے کچھ عرصے بعد کی گئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

دو امریکی عہدے داران نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، خبر رساں ادارے "رائٹرز" کو بتایا کہ ایرانی فوج نے گزشتہ ماہ خلیج میں کچھ بحری جہازوں پر بارودی سرنگیں منتقل کیں، جس سے واشنگٹن کے اس خدشے میں اضافہ ہوا کہ ایران، اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

عہدے داران نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کو یہ معلومات کیسے حاصل ہوئیں، لیکن عام طور پر ایسی خفیہ معلومات سیٹلائٹ تصاویر، انسانی ذرائع یا ان دونوں ذرائع کے امتزاج سے حاصل کی جاتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ تیاری اس وقت کی گئی جب 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر پہلا میزائل حملہ کیا تھا۔ یہ بات اس سے قبل رپورٹ نہیں کی گئی تھی۔

جب وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار سے ایرانی تیاریوں پر تبصرے کی درخواست کی گئی تو ان کا کہنا تھا "صدر کی کامیاب فوجی حکمت عملی، 'مڈ نائٹ ہیمر' آپریشن، اور حوثیوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کی بدولت آبنائے ہرمز کھلی ہے، بحری نقل و حرکت بحال ہو چکی ہے، اور ایران کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا گیا ہے۔"

اگرچہ یہ بارودی سرنگیں آبنائے ہرمز میں بچھائی نہیں گئیں، لیکن ان کی منتقلی سے عندیہ ملتا ہے کہ تہران واقعی دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں سے ایک کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ ایک بڑے تنازع کو مزید شدت دیتا اور عالمی تجارت کو سخت نقصان پہنچاتا۔

گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ "آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک غیر ذمے دارانہ اقدام ہو گا۔"

آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیاں (آرکائیو - اے ایف پی)
آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیاں (آرکائیو - اے ایف پی)

دنیا بھر کے تیل و گیس کے پانچویں حصے کی ترسیل

دنیا بھر میں تیل اور گیس کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، اور اس کی بندش عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

تاہم، امریکی حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں 10 فی صد سے زیادہ گر چکی ہیں، اس اطمینان کے ساتھ کہ اس کشیدہ صورت حال نے ابھی تک خام تیل کی تجارت میں کوئی بڑا خلل پیدا نہیں کیا۔

واضح رہے کہ22 جون کو جب امریکا نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، تو ایرانی پارلیمان نے آبنائے ہرمز بند کرنے کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔ تاہم یہ قرارداد قانونی طور پر لازم نہیں تھی۔ حتمی فیصلہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے اختیار میں تھا۔ یہ بات اس وقت "پریس ٹی وی" نے بتائی۔
ایران ماضی میں بھی بارہا ہرمز کی بندش کی دھمکیاں دے چکا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز یہ تعین نہیں کر سکی کہ ایران نے بارودی سرنگیں کب اور کس وقت منتقل کیں، اور آیا وہ اب بھی موجود ہیں یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ انھیں دوبارہ اتار دیا گیا ہے یا نہیں۔

امریکی حکام نے کہا کہ امکان ہے ایران کی جانب سے سرنگوں کی منتقلی ایک نفسیاتی چال ہو۔ وہ واشنگٹن کو اپنی سنجیدگی کا یقین دلانا چاہتے ہوں، لیکن شاید اصل میں ان کا مقصد بندش نہ ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی فوج قیادت کے کسی ممکنہ حکم کے پیشِ نظر پہلے سے تیاریاں کر رہی ہو۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، جو خلیج کو بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے۔ اس کی سب سے تنگ جگہ 34 کلو میٹر چوڑی ہے، جس میں دو طرفہ بحری نقل و حمل کے لیے صرف 2-2 میل کے راستے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق ... جو اوپیک کے رکن ہیں، اپنا زیادہ تر تیل اسی راستے سے بھیجتے ہیں، بالخصوص ایشیائی منڈیوں کی طرف۔ قطر بھی اپنی تقریباً ساری مائع قدرتی گیس (LNG) اسی آبنائے سے گزارتا ہے، جبکہ ایران بھی زیادہ تر تیل ہرمز سے برآمد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کے مطابق تہران کے لیے اس راستے کو بند کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

تاہم، ایران نے ہرمز کی ممکنہ بندش کے لیے خاطر خواہ تیاری کر رکھی ہے۔ امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے 2019 کے تخمینے کے مطابق، ایران کے پاس 5000 سے زائد بحری بارودی سرنگیں موجود ہیں، جنھیں تیز رفتار چھوٹی کشتیوں کے ذریعے تیزی سے تعینات کیا جا سکتا ہے۔

بحرین میں تعینات ہے امریکی پانچواں بحری بیڑا، خطے میں بحری تجارت کی حفاظت پر مامور ہے، اور عام طور پر بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والی چار کشتیوں کو بحرین میں رکھتا ہے۔

تاہم، ایران پر امریکی حملوں سے پہلے کے دنوں میں کسی ممکنہ جوابی ایرانی حملے کے پیشِ نظر ... یہ تمام کشتیاں عارضی طور پر وہاں سے ہٹا لی گئی تھیں۔

ایران کی فوری جوابی کارروائی صرف قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے تک محدود رہی، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران مزید جوابی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں