حماس نے کہا ہے کہ وہ ثالثوں کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی نئی تجاویز پر مشاورت کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جس سے تنازع ختم ہو اور پٹی سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کو یقینی بنایا جائے۔ حماس کے آفیشل ٹیلی گرام پیج پر ایک بیان میں لکھا گیا کہ ہمارے ثالث بھائی فریقین کے درمیان خلیج کو ختم کرنے، فریم ورک معاہدے تک پہنچنے اور مذاکرات کا ایک سنجیدہ دور شروع کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم ذمہ داری کے اعلیٰ احساس کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اپنے ثالث بھائیوں سے موصول ہونے والی تجاویز پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے قومی مشاورت کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچ سکیں جو جارحیت کے خاتمے، اسرائیلی فوج کے انخلاء کو حاصل کرے اور غزہ کی پٹی میں ہمارے لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
متعلقہ سیاق و سباق میں سی بی ایس نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ میں عارضی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر رضامندی ظاہر کر دی ہے سے پٹی میں امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں اور اسرائیلی حکام کے درمیان "طویل اور نتیجہ خیز" ملاقات کے بعد منگل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ مصر اور قطر حماس کو "حتمی" تجویز پیش کریں گے۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر غزہ میں مستقل جنگ بندی کرنے اور تقریباً دو سال پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جنگ بندی کی حکمران دائیں بازو کے اتحاد کے ارکان نے سخت مخالفت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے ’’ ایکس‘‘ پر لکھا کہ حکومتی اتحاد میں اکثریت غزہ میں حماس کے زیر حراست باقی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی حمایت کرے گی۔ اگر ایسا کرنے کا موقع ہے تو ہمیں اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ غزہ میں قید 50 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے بیس اب بھی زندہ ہیں۔