اسرائیل اور حماس کے درمیان معلق اختلافی نکتہ "موراغ راہ داری" کیا ہے؟

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے مطابق وہ حماس کی عسکری صلاحیتوں کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی پر قائم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کے بیچ، صحافتی رپورٹوں میں فریقین کے درمیان "اہم اختلافی نکتہ" سامنے آیا ہے۔ یہ نکتہ امریکی بیانات کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات کی تعداد چار سے کم ہو کر صرف ایک رہ گئی ہے۔

امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان باقی رہ جانے والے تنازعات کی تعداد اب صرف ایک ہے، اور انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہفتے کے اختتام تک کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

تنگ زمینی پٹی

اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت" کے مطابق بنیادی اختلافی نکتہ اسرائیل کے اُس منصوبے سے متعلق ہے، جس کے تحت وہ جنوبی غزہ میں "موراغ راہ داری" کے نام سے معروف ایک تنگ زمینی پٹی پر کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ ایک فوجی راستہ ہے جو خان یونس کے جنوب میں مصر کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس علاقے کو "فیلاڈلفیا 2" کا نام دیا ہے، جو اصل "فیلاڈلفیا راہ داری" کی طرز پر ہے ... وہ بفر زون جو غزہ اور مصر کے درمیان قائم تھا۔

موجودہ منصوبے کے مطابق، اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی موراغ میں اُس کی فوجی موجودگی برقرار رہے، جب کہ حماس اس کی مخالفت کرتی ہے۔ نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ اس علاقے پر کنٹرول اس لیے ضروری ہے تاکہ حماس کو سرنگوں کے ذریعے دوبارہ اسلحہ حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

نیتن یاہو حماس کی عسکری صلاحیتیں ختم کرنے کے لیے پُر عزم

نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اس بات پر زور دیا کہ وہ حماس کی عسکری اور انتظامی صلاحیتوں کو "ختم" کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ایک ریکارڈ شدہ بیان میں نیتن یاہو نے کہا "ہم ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور (قیدیوں کی رہائی) کا حصول فوجی دباؤ کے ذریعے ممکن ہے۔"

انھوں نے مزید کہا "بد قسمتی سے، یہ کوشش ہمیں بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر رہی ہے، ہمارے بہترین جوان قربان ہو رہے ہیں، لیکن ہم اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں یعنی تمام قیدیوں کو خواہ زندہ ہوں یا مردہ واپس لانا، حماس کی عسکری اور انتظامی صلاحیتوں کو ختم کرنا، اور یہ یقینی بنانا کہ غزہ دوبارہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے۔"

اس سے پہلے، "العربیہ/الحدث" کے نمائندے نے اطلاع دی تھی کہ غزہ کے مسئلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اجلاس مکمل ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا، جس میں غزہ سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال ہوا، تاہم اس کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

یہ 20 جنوری کو صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز کے بعد نیتن یاہو کی امریکہ کے لیے تیسرا سرکاری دورہ ہے۔ وہ منگل کے روز چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں صدر ٹرمپ سے دوسری بار ملے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں