پاکستان، ایران کی نئی پالیسیاں: رواں سال 30 لاکھ افغانوں کی واپسی کا امکان

سولہ لاکھ سے زائد پہلے ہی واپس جا چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے ایک اہلکار نے جمعہ کو کہا کہ اس سال ممکنہ طور پر تیس لاکھ افغان اپنے ملک واپس چلے جائیں گے اور خبردار کیا کہ اتنی بڑی تعداد پہلے سے ہی ایک بڑے انسانی بحران میں مزید شدت پیدا کر رہی ہے۔

ایران اور پاکستان کی جانب سے نئی پالیسوں کے نفاذ نے بے گھر افغانوں کو متأثر کیا ہیں اور تہران پہلے ہی 40 لاکھ "غیر قانونی" افغانوں کو چھے جولائی تک ایرانی سرزمین چھوڑنے کے لیے ڈیڈلائن دے چکا ہے۔

"ہم جو دیکھ رہے ہیں، وہ دونوں ممالک سے افغانوں کا بے وقار، غیر منظم اور وسیع پیمانے پر اخراج ہے جو اس ملک پر بہت زیادہ دباؤ پیدا کر رہا ہے جو انہیں قبول کرنے کے لیے رضامند تو ہے اور ابھی تک ایسا کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے،" یہ بات افغانستان میں یو این ایچ سی آر کے نمائندہ عرفات جمال نے کابل سے ایک ویڈیو پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

انہوں نے مزید کہا، "ہمارے لیے تشویش کی بات واپسی کی یہ سطح، شدت اور واپسی کا طریقہ ہے۔"

جمال نے مزید کہا، اس سال 1.6 ملین سے زیادہ افغان پہلے ہی پاکستان اور ایران سے واپس آ چکے ہیں جن میں اکثریت ایران سے آنے والوں کی ہے۔ یہ تعداد پہلے ہی یو این ایچ سی آر کی 2025 کے لیے 1.4 ملین کی ابتدائی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔

جمال نے کہا، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے دفتر کا تخمینہ ہے کہ اس سال افغانستان میں 30 لاکھ کی آمد کا امکان ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے کہا، یومیہ 30,000 سے زیادہ لوگ اسلام قلعہ کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں جن میں سے 50,000 نے صرف چار جولائی کو سرحد عبور کی ہے۔

جمال نے کہا، "ان میں سے بہت سے واپس آنے والے اچانک بے گھر ہو کر اور ایک مشکل، تھکا دینے والے اور ذلت آمیز سفر سے گذر کر پہنچ رہے ہیں۔ وہ تھکے ماندے، پریشان حال، وحشیانہ حالات کے جبر کا شکار اور اکثر مایوسی کے عالم میں پہنچ رہے ہیں۔"

سرحد پار کرنے والے بہت سے لوگوں نے ایرانی حکام کی جانب سے دباؤ کی اطلاع دی ہے جس میں گرفتاریاں اور بے دخلی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں