فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی اور تعمیری ایجنسی (UNRWA) نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس کی ٹیمیں غزہ میں سب سے زیادہ کمزور طبقوں کی مدد کے لیے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انروا نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس کے غزہ میں موجود کلینک میں گزشتہ مارچ سے غذائی قلت کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ میں اسرائیل کی حکومت کی طرف سے ناکہ بندی شروع ہوئی تھی۔ انروا کو اس وقت سے کوئی انسانی امداد فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انروا نے یہ بھی کہا کہ علاج کے لیے ضروری بنیادی سامان کی شدید قلت کے باوجود ہماری ٹیمیں غزہ میں سب سے زیادہ کمزور طبقوں کی مدد کے لیے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں بچوں کی غذائی تشخیص بھی شامل ہے۔
ایندھن کی قلت نازک سطح پر
اقوام متحدہ نے ہفتے کو خبردار کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں ایندھن کی قلت نازک سطح" پر پہنچ گئی ہے جو جنگ سے تباہ شدہ پٹی کے باشندوں کی مشکلات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سات ایجنسیوں نے ایک مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ میں بقا کے لیے ایندھن ریڑھ کی ہڈی ہے۔
ایجنسیوں نے ہسپتالوں، پانی کے نظام، سیوریج نیٹ ورک، ایمبولینسوں اور انسانی ہمدردی کی کارروائیوں کے تمام پہلوؤں کو چلانے کے لیے ایندھن کی ضرورت کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ بیکریوں کو بھی ایندھن کی اشد ضرورت ہے۔
غذائی عدم تحفظ کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ
یو این کی ایجنسیوں، جن میں اقوام متحدہ کا انسانی امور کی رابطہ کاری کا دفتر (OCHA)، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور عالمی خوراک پروگرام (WFP) شامل ہیں، نے خبردار کیا ہے غزہ میں ایندھن کی قلت نازک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کے باشندے تقریباً دو سال کی جنگ کے بعد انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر وسیع پیمانے پر غذائی عدم تحفظ۔ اس لیے بھی ہے کہ ایندھن ختم ہوگیا ہے۔ یہ آبادی پہلے سے ہی قحط کے دہانے پر موجود تھی اور ایندھن کے خاتمے نے اس پر ایک نیا ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ جو ایجنسیاں اس بڑے انسانی بحران کا جواب دے رہی ہیں ان کے کچھ حصوں کو اسرائیلی بمباری نے تباہ کر دیا ہے اور قحط کا خطرہ ہے۔ اگر کافی ایندھن دستیاب نہ ہوا تو وہ اپنی کارروائیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
مزید کہا گیا کہ اس کا مطلب ہے کہ صحت کی خدمات، صاف پانی، یا امداد فراہم کرنے کی صلاحیت دستیاب نہیں ہوگی۔ کافی ایندھن کے بغیر غزہ کو انسانی امدادی کوششوں کے خاتمے کا سامنا ہے۔ ایجنسیوں نے خبردار کیا کہ "ایندھن کے بغیر بیکریاں اور کمیونٹی کچن نہیں چل سکتے۔ پانی کی پیداوار اور سیوریج کے نظام بند ہو جائیں گے۔ خاندانوں کو پینے کے محفوظ پانی سے محروم کردیا جائے گا اور سڑکوں پر ٹھوس فضلہ اور سیوریج جمع ہو جائیں گے۔ ایجنسیوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ حالات خاندانوں کو مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا شکار بناتے ہیں اور غزہ میں سب سے زیادہ کمزور طبقوں کو موت کے قریب لاتے ہیں۔
130 دنوں میں پہلی بار
یہ انتباہ اقوام متحدہ کی جانب سے 130 دنوں میں پہلی بار غزہ میں ایندھن داخل کیے جانے کے چند دن بعد آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے اسے "خوش آئند پیشرفت" قرار دیا تھا۔ ایجنسیوں نے کہا کہ 75,000 لیٹر ایندھن جو وہ داخل کر سکے وہ روزمرہ کی زندگی کو برقرار رکھنے اور اہم امدادی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے روزانہ درکار مقدار کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔