رفح میں "انسانی شہر" دراصل فلسطینیوں کے لیے ایک حراستی کیمپ ہو گا : ایہود اولمرت

یہ منصوبہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے تجویز کیا ہے، جس میں تقریباً 6 لاکھ فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں رفح کے ملبے پر قائم کیے جانے والے ایک شہر میں منتقل کرنے کی تجویز شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے تجویز کردہ "انسانی شہر" یا جسے "رفح منصوبہ" کہا جاتا ہے، دراصل فلسطینیوں کے لیے ایک حراستی کیمپ ہو گا، اور انھیں زبردستی وہاں داخل کرنا "نسلی تطہیر" کے مترادف ہو گا۔

اولمرت نے برطانوی اخبار "گارڈین" کو دیے گئے بیان میں کہا کہ اسرائیل پہلے ہی غزہ اور مغربی کنارے میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، اور اس نوعیت کا کوئی کیمپ تعمیر کرنا ان خلاف ورزیوں میں خطرناک اضافہ ہو گا۔

منصوبے سے متعلق سوال پر اولمرت نے کہا "یہ ایک حراستی کیمپ ہے... مجھے افسوس ہے"۔ ان کا مزید کہنا تھا "اگر فلسطینیوں کو اس نئے انسانی شہر میں منتقل کیا گیا تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نسلی تطہیر کا ایک حصہ ہے ... کیونکہ لاکھوں افراد کے لیے کیمپ بنانے کی ہر کوشش کا یہی نا گزیر مطلب نکلتا ہے۔"

ایک بات جو قابلِ اعتبار نہیں

اولمرت نے وضاحت کی کہ موجودہ اسرائیلی فوجی کارروائی کو نسلی تطہیر نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ "جنگ سے بچانے کے لیے شہریوں کا انخلا بین الاقوامی قانون کے مطابق قانونی ہے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ "فلسطینی اُن علاقوں میں واپس چلے گئے ہیں جہاں سے فوجی کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں"۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ کئی مہینوں سے اسرائیلی وزرا کی جانب سے غزہ کو "صاف" کرنے اور وہاں اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کی کھلی باتوں کے بعد، حکومت کا یہ دعویٰ کہ "انسانی شہر" فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے ہے، بالکل ناقابلِ اعتبار ہو چکا ہے۔

اولمرت نے کہا "جب وہ ایک کیمپ بناتے ہیں اور غزہ کے نصف سے زائد حصے کو خالی کرانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تو اس حکمتِ عملی کو صرف ایک ہی طرح سمجھا جا سکتا ہے ... یہ فلسطینیوں کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ انھیں زبردستی نکال کر پھینکنے کے لیے ہے۔ میرے نزدیک اس کا کوئی اور مطلب نہیں۔"

اس منصوبے کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت حاصل ہے، اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وزیر دفاع یسرائيل کاتز کی جانب سے تجویز کردہ علاقے سے انخلا سے اسرائیل کا انکار، جنگ بندی کے معاہدے پر جاری مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اسرائیلی وکلا اور انسانی حقوق کے محققین اس منصوبے کو "انسانیت کے خلاف جرائم" کی ایک شکل قرار دے چکے ہیں، اور بعض نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل ہوا تو وہ بعض حالات میں "نسل کشی کے جرم" کے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔

وزیر دفاع یسرائيل کاتز نے گزشتہ پیر کو اعلان کیا تھا کہ فوج کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ رفح میں ایک "انسانی شہر" تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کرے، جہاں بالآخر پورے غزہ کے باشندوں کو جمع کیا جائے گا۔

یہ مجوزہ شہر جنوبی غزہ میں موجود رفح شہر کے ملبے پر بنایا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق تقریباً 6 لاکھ فلسطینیوں کو المواصی کے علاقے سے سکیورٹی جانچ کے بعد اس نئے مقام پر منتقل کیا جائے گا، اور اس کے بعد انھیں وہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ تفصیلات خود کاتز نے فراہم کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں