شام کی وزارت خارجہ نے دمشق اور سویداء صوبے کو نشانہ بنانے والے حالیہ اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ نئی اسرائیلی جارحیت سرکاری اداروں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والی خلاف ورزیوں کے ایک طویل سلسلے میں شامل ہے۔ یہ حملے شام اور خطے میں کشیدگی اور افراتفری کو ہوا دینے اور سلامتی کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
شامی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ شام اس جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اسرائیل کو موجودہ کشیدگی کی مکمل ذمہ داری ٹھہراتا ہے۔ یہ حملے اسرائیلی ریاست کی ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلنا اور عدم استحکام کا ایک مستقل ماحول پیدا کرنا ہے۔
شامی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دمشق بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام ذرائع سے اور مناسب وقت اور طریقے سے اپنی سرزمین اور عوام کا دفاع کرنے کا اپنا جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔
-
شام پر اسرائیلی بمباری کے بارے میں بہت پریشان ہیں : امریکی وزیر خارجہ
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کی طرف سے اپنے پڑوسی عرب ملک شام پر کی ...
مشرق وسطی -
لبنان کے جنبلاط کا السویدا کی دروز برادری سے شام کی ریاست میں ضم ہونے کا مطالبہ
اس مسئلے کا ریاست کی چھتری تلے صرف سیاسی حل ہو سکتا ہے
مشرق وسطی -
اسرائیل نے واشنگٹن سے شامی فوج پر حملے روکنے کا وعدہ کر لیا
امریکی ایلچی نے کہا ہے کہ سویداء میں جھڑپیں تشویش ناک ہیں اور ہم "امن" کے قیام کے ...
بين الاقوامى