شام کے علاقے سویدا میں جنگ بندی کا اعلان، دروز رہنما نے معاہدے کی تفصیلات بتا دیں

یہ پیشرفت دروز اکثریت والے شہر سویدا میں حکومتی افواج کے داخلے کے بعد جھڑپوں کے درمیان سامنے آئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سانا) نے وزارت داخلہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ "سویدا میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ شہر میں سکیورٹی چوکیاں قائم کی جائیں گی اور اسے مکمل طور پر شامی ریاست میں ضم کر دیا جائے گا۔

وزارت داخلہ نے 14 شقوں پر مشتمل معاہدے کی تفصیلات جاری کیں جن میں تمام فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنا اور شامی ریاست اور دروز شیوخ پر مشتمل ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینا شامل ہے تاکہ عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔

معاہدے میں ریاست کی اندرونی سلامتی اور پولیس چوکیوں کو قائم کرنا اور سویدا صوبے کے پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنا شامل ہے۔ اسی طرح گھروں کی حرمت اور شہریوں کی زندگی کا احترام کرنا اور شہر کے اندر کسی بھی گھر یا نجی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔

دروز رہنما شیخ یوسف جربوع نے بھی بدھ کے روز شامی حکومت کے ساتھ سویدا کے بارے میں ایک معاہدے کا اعلان کیا جس میں فوجی کارروائیوں کو روکنا اور ریاست سے باہر ہتھیاروں کے مظاہرے کا خاتمہ شامل ہے۔

دروز کے روحانی سربراہ یوسف جربوع نے فیس بک پیچ "الدار" پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں کہا کہ دروز اور شامی حکام کے درمیان جنگ بندی اور سکیورٹی کی ضمانت کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اور صوبے کو مکمل طور پر شامی ریاست میں ضم کیا جائے گا۔

معاہدے کی اہم ترین شقیں:

  • فوری طور پر تمام فوجی کارروائیوں کو مکمل طور پر روکنا اور تمام فریقوں کی جانب سے فوجی کشیدگی یا سکیورٹی فورسز اور ان کی چوکیوں کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے کو روکنے کا عزم کیا گیا ہے۔ اس عزم میں فوجی دستوں کو ان کی چھاؤنیوں میں واپس لانا بھی شامل ہے۔
  • جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی اور اس کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینا۔
  • شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ریاست کی اندرونی سلامتی اور پولیس کی چوکیاں قائم کرنا اور سویدا صوبے کے پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنا۔
  • گھروں کی حرمت اور شہریوں کی زندگی کا احترام کرنا اور شہر کے اندر یا سویدا صوبے کے کسی بھی علاقے میں کسی بھی گھر یا نجی املاک کو نقصان نہ پہنچانا اور انہیں کسی بھی حملے یا تخریب کاری سے بچانے کا عزم کیا گیا ہے۔
  • وزارت داخلہ اور دفاع کے تعاون سے بھاری ہتھیاروں کو منظم کرنے کے لیے ایک میکانزم پر اتفاق رائے ہوا ہے تاکہ ریاست کے دائرہ کار سے باہر ہتھیاروں کے مظاہر کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ، سویدا صوبے کی سماجی اور تاریخی خصوصیت کا خیال رکھتے ہوئے اس عمل کو انجام دینا ہے۔
  • سویدا کا شامی ریاست میں مکمل انضمام اور سویدا صوبے کے تمام علاقوں پر شامی ریاست کی مکمل خودمختاری کی تصدیق کی گئی ہے اور ریاست کے تمام اداروں کی بحالی اور انہیں میدان میں فعال کرنا ہے۔
  • ہونے والے جرائم، خلاف ورزیوں اور تجاوزات کی تحقیقات اور تصدیق کے لیے ایک مشترکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینا اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرنا، متاثرین کو معاوضہ دینا اور مالکان کو ان کے حقوق واپس دلانا ہے۔
  • دمشق - سویدا شاہراہ کو ریاست کی جانب سے محفوظ بنانا اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
  • حالیہ واقعات میں گرفتار ہونے والوں کی فوری رہائی اور لاپتہ افراد کی قسمت کا پتہ لگانے کے لیے کام کرنا ہے۔

مسلح جھڑپوں کا دوبارہ آغاز

یاد رہے بدھ کی صبح شامی میڈیا نے سویدا شہر کے اندر مسلح جھڑپوں کے اس وقت دوبارہ شروع ہونے کی اطلاع دی تھی جب منگل کو شامی فوج دو دن کی خونی جھڑپوں کے بعد شہر میں داخل ہوئی تھی۔ اس میں دروز اور بدوؤں کے درمیان سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

"العربیہ" اور "الحدث" کے نمائندے نے بتایا کہ مسلح گروہ اب بھی سویدا میں کچھ مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ شامی فوج کی یونٹیں شہر میں تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شامی میڈیا نے مسلح جھڑپوں سے بچنے کے لیے شہریوں کے سویدا سے مشرقی درعا کے دیہی علاقوں کی طرف نقل مکانی جاری رہنے کا بھی کہا ہے۔

بدھ کو گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے سویدا صوبے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جھڑپوں کے دوبارہ شروع ہونے کے تناظر میں شام کے ساتھ سرحد پر بھاری فوجی کمک بھیجی۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق بارڈر گارڈ پولیس کی 3 کمپنیاں اور گولانی بریگیڈ کی ایک کمپنی، ملٹری پولیس فورسز کے ساتھ اسرائیل کے اندر دروز کی جانب سے سرحد کی باڑ کو اجتماعی طور پر عبور کرنے کی کوششوں کے پیش نظر تعینات کی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے شام کے ساتھ سرحد کے قریب دروز کی ایک تعداد کو آنسو گیس کے گولوں سے منتشر کردیا۔

اسی دوران وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے شامی افواج کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ نظام کو سویدا میں دروز کو آزاد کرنا چاہیے اور اپنی افواج کو فوری طور پر واپس بلانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل شام میں دروز طائفے کو ترک نہیں کرے گا۔ فوج اس وقت تک نظام کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے گی جب تک وہ علاقے سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہو جاتے۔ اگر پیغام سمجھ نہیں آیا تو فوج جلد ہی اپنے ردعمل میں اضافہ کردے گی۔

اسی اثنا میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے سویدا کے گرد و نواح میں شامی افواج کے اہداف پر حملے کیے جو فوجی کشیدگی کے آغاز کی ابتدائی علامت کے طور پر ظاہر ہوئے۔ شامی خبر رساں ایجنسی (سانا) نے اطلاع دی کہ "اسرائیلی قابض فضائیہ کے ڈرون نے سویدا شہر کو نشانہ بنایا ہے۔"

ایک رپورٹر نے سویدا شہر کے مغربی داخلی راستے پر ایک چھوٹی فوجی ٹرک کو بمباری کا نشانہ بنتے دیکھا جہاں حکومتی افواج شہر کے محلوں میں داخل ہونے سے پہلے جمع ہوئی تھیں۔ سویدا کے اندر دروز پر سیاسی قیادت کا دباؤ بڑھ گیا۔ اسرائیل میں دروز طائفے کے سربراہ شیخ موفق طریف نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ ہمیں شامی نظام کو سویدا سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا چاہیے۔ یہ دروز طائفے کی بقا کی جنگ ہے، یہ فیصلہ کن وقت ہے۔

قبل ازیں بدھ کے روز "العربیہ" اور "الحدث" کے ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی طیارے جنوبی سیریا کی فضا میں پرواز کر رہے تھے، اس کے بعد انہوں نے سویدا صوبے کے مضافات پر 3 نئے حملے کیے اور چوتھا حملہ مشرقی درعا کے دیہی علاقے میں بریگیڈ 52 کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا۔ یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ اسرائیلی چینل 12 نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن نے تل ابیب سے جنوبی شام میں شامی فوج پر حملے روکنے کی درخواست کی تھی۔

"آکسیوس" کے رپورٹر باراک رافید نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے امریکیوں کو مطلع کیا تھا کہ وہ منگل کی شام تک حملے بند کر دے گا۔ منگل کو قبل ازیں شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی تھامس براک نے کہا تھا کہ جنوبی شام میں حالیہ جھڑپیں "تشویشناک" ہیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

تھامس براک نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہم شام کے تمام اجزاء کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے مقصد کے ساتھ فعال طور پر مصروف ہیں۔ سویدا میں حالیہ جھڑپیں تمام فریقوں کے لیے تشویشناک ہیں اور ہم دروز، بدو قبائل، شامی حکومت اور اسرائیلی افواج کے لیے ایک پرامن اور جامع نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی ایلچی نے مزید کہا کہ غلط رہنمائی اور مواصلات کی کمزوری ہر فریق کے مفادات کے پرامن اور سوچ سمجھ کر انضمام کو یقینی بنانے میں سب سے بڑا چیلنج ہیں۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن پرامن اور ہموار انضمام کی طرف بڑھنے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ براہ راست، فعال اور نتیجہ خیز بات چیت کر رہا ہے۔ واضح رہے شامی حکومتی افواج منگل کو جنوبی شام کے دروز اکثریت والے شہر سویدا میں تعینات ہو گئی ہیں۔

اتوار کو دروز جنگجوؤں اور مقامی بدو قبائل کے مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔ جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان جھڑپوں نے حکام کو علاقے میں کمک بھیجنے پر مجبور کیا تاکہ امن بحال کیا جا سکے اور جھڑپوں کو ختم کیا جا سکے۔ شامی وزارت دفاع نے منگل کو علاقے میں جنگ بندی کا اعلان کیا۔ حکام اور سویدا کے رہنماؤں کے درمیان رابطوں کے بعد شہر میں حکومتی افواج کے داخلے کا اعلان ہوا۔ فوج کے داخلے سے قبل ڈیڑھ لاکھ آبادی والا یہ شہر مقامی دروز دھڑوں کے زیر انتظام تھا جو وہاں سیکیورٹی کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔

دروز مذہبی اداروں نے بیانات میں جنگجوؤں سے اپنے ہتھیار ڈالنے اور حکومتی افواج کا مقابلہ نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے پیر سے سویدا میں شامی افواج کے کئی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے "ایکس" پر کہا ہے کہ اسرائیلی حملے ایک واضح پیغام اور انتباہ تھے ک۔ ہم شام میں دروز کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں