اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے امداد کے منتظر 32 فلسطینی جاں بحق
جنوبی غزہ میں خان یونس اور رفح کے قریب امدادی مراکز کے نزدیک حملہ، متعدد بچے اور خاتون بھی شامل
غزہ کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں امداد کے منتظر 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں متعدد بچے اور ایک خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ جنوبی غزہ میں واقع خان یونس اور رفح کے مغربی علاقوں میں امدادی مراکز کے قریب پیش آیا۔
محکمہ شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی صبح اسرائیلی فائرنگ سے مارے جانے والوں کی تعداد 32 ہو چکی ہے، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایک روز قبل جمعہ کو بھی اسرائیلی فوج نے شمال مغربی رفح کے علاقے الشاکوش میں امریکی امدادی مرکز کے قریب امداد کے منتظر فلسطینیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں نو افراد جان سے گذر گئے۔
ترجمان محمود بصل نے مزید بتایا کہ ایک اور واقعے میں اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے جنوب میں نتساریم کوریڈور کے قریب امدادی مرکز کے نزدیک موجود شہریوں کو نشانہ بنایا، جس میں ایک شخص شہید اور آٹھ زخمی ہوئے۔
غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا
اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ نے غزہ کے بیش از دو ملین شہریوں کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ علاقے میں خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے تعاون سے قائم "غزہ ہیومنیٹرین فاؤنڈیشن" نے مئی کے آخر میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ تاہم دو ماہ کے سخت محاصرے کے بعد اسرائیل نے محض جزوی نرمی کی، جس کے باوجود قحط کی صورتحال کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔
گذشتہ چند ہفتوں سے امدادی مراکز کے اطراف افراتفری اور امداد کے انتظار میں ہلاکتوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بدھ کے روز جنوبی غزہ میں تنظیم کے ایک امدادی مرکز کے قریب 20 فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی۔
اقوام متحدہ کے مطابق مئی کے آخر سے اب تک 875 فلسطینی امداد کے انتظار کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں، جن میں سے 674 افراد صرف نام نہاد امدادی تنظیم کے مراکز کے قریب نشانہ بنے۔