ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں ایران اور یورپی ملکوں کے درمیان ایک بار پھر مذاکراتی دور شروع ہونے جارہا ہے۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ ایرانی خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق اگلے ہفتے سے متوقع ہے۔ خبر رساں ادارے نے یہ خبر اتوار کے روز دی ہے۔
یہ پیش رفت ان یورپی ملکوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرف سے ان دھمکیوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ایران سے کہا گیا تھا کہ ایران جوہری پروگرام کے بارے میں بات چیت کا پھر سے سلسلہ شروع کرنے میں ناکام ہوا تو ایران پر پھر سے بین الاقوامی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران اور یورپی ملکوں کے درمیان مذاکرات کے لیے اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔ مگر وقت اور تاریخ کے تعین کے لیے مشورے جاری ہیں۔ ابھی یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ اگلے ہفتے سے مذاکراتی سلسلہ کس ملک کی میزبانی میں ہوگا۔
جرمنی کے ایک سفارتی ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ تین یورپی ملکوں کے ساتھ چند دنوں میں ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کا تازہ سلسلہ شروع ہو گا۔ ان ذرائع کے مطابق تین یورپی ملک ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یاد رہے 2015 میں جب ایران کا سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ایک طویل مذاکراتی عمل کے نتیجے میں جوہری معاہدہ ممکن ہوا تھا تو یورپ سے یہی تین ملک مذاکرات کا حصہ تھے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو 2018 میں ختم کرنے کا یکطرفہ اعلان کر دیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی یورپی ملکوں کے حوالے سے اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ دباؤ میں لاکر اور دھمکا کر مذاکرات کی بات کرنا درست نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا کوئی اخلاقی جواز ہے۔ اسی طرح 'سنیپ بیک' جیسی اصطلاحات کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔
اسرائیل کی طرف سے ایران پر 13 جون 2025 کو مسلط کی گئی جنگ سے پہلے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور طے ہو چکا تھا۔ لیکن اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر کے اس مذاکراتی عمل اور ماحول کو بھی خراب کر دیا تھا۔