ملک میں حالیہ پراسرار آتش زدگی کے واقعات دانستہ تخریبی کارروائیاں تھیں: ایرانی ذمے داران
حکام نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ حالیہ دنوں ایران میں پھیلنے والی ان آتش زدگیوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے، یہ بات امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے بتائی
ایرانی حکام نے امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کو تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران میں لگنے والی پراسرار آگیں درحقیقت تخریبی کارروائیاں تھیں۔
اخبار کے مطابق ایرانی حکام نے وضاحت کی کہ ان میں سے بعض آگیں جان بوجھ کر لگائی گئی تھیں، جن کے پیچھے دشمن عناصر کے ایجنٹوں کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ان آتش زدگیوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جن کا دائرہ حالیہ دنوں میں ایران بھر میں پھیل چکا ہے۔
گزشتہ روز منگل کو شمالی ایران میں واقع بندرگاہ انزلی کے آزاد تجارتی زون میں ایک تجارتی کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی، یہ بات ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز نیٹ ورک نے بتائی۔ نیٹ ورک کے مطابق فائر بریگیڈ کے اہل کار آگ بجھانے میں مصروف رہے۔
اس سے ایک روز قبل، مشرقی اصفہان میں زیار روڈ پر واقع پیٹرولیم مصنوعات کے ایک بڑے کارخانے میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔ یہ واقعہ ان متعدد آتش زدگیوں کا حصہ ہے جو حالیہ دنوں میں ایران میں یکے بعد دیکھنے میں آئیں۔
12 روزہ جنگ
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے اچانک فضائی حملے کر کے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔
جوابی کارروائی میں ایران نے میزائلوں کی بارش کر دی، جن کا ہدف اسرائیلی فوجی ٹھکانے، بنیادی ڈھانچے اور شہری علاقے تھے۔
گزشتہ ماہ22 جون کو امریکہ بھی اس جنگ میں شامل ہو گیا اور اس نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بم باری کی۔
اس کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکا کے سب سے بڑے فضائی اڈے پر 14 میزائل داغے، اور عراق میں موجود امریکی اڈوں پر ڈرونز بھی بھیجے۔ یہ حملے 23 جون کو امریکا کی جانب سے فوردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
ایک امریکی اہل کار نے وضاحت کی کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے اس حملے کی پیشگی توقع کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کر لیے تھے۔
چند گھنٹوں بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اعلان کیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی طے پا گئی ہے۔ یوں دونوں ملکوں کے درمیان 12 روزہ غیر معمولی تصادم اختتام کو پہنچا۔