مغربی کنارا : اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر دو فلسطینی جاں بحق

پہلا واقعہ بیت لحم کے جنوب میں واقع قصبے بیت فجار کے قریب پیش آیا، جبکہ دوسرا واقعہ الخلیل کے جنوب میں واقع قصبے الظاهريہ کے قریب پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی وزارتِ صحتِ نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔

وزارت کے مطابق ایک فلسطینی شہری کو، جس کی شناخت تا حال نہیں ہو سکی، بیت لحم کے جنوب میں واقع قصبے بیت فجار کے قریب اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی لاش اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے ایک اہل کار نے ایک شخص پر فائرنگ کی جو "چاقو سے مسلح" تھا اور اس نے بیت فجار کے قریب واقع اسرائیلی بستی مجدال عوز پر پتھراؤ کیا تھا۔ فوج کے مطابق حملہ آور کو "غیر مؤثر" بنا دیا گیا۔

وزارتِ صحت نے یہ بھی بتایا کہ 19 سالہ فلسطینی نوجوان ودیع محمد عثمان سمامره کو اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے الخلیل کے جنوب میں واقع الظاهریہ قصبے کے قریب قتل کیا، اور اس کی لاش بھی ضبط کر لی۔ اس واقعے پر اسرائیلی فوج نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

علاوہ ازیں وزارت نے علیحدہ بیان میں اعلان کیا کہ 14 سالہ محمد خالد حسن مبروک بدھ کے روز نابلس کے عین کیمپ میں اسرائیلی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔

بدھ کو عین کیمپ میں ہونے والی فائرنگ کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک فلسطینی کو گرفتار کرنے کے لیے کی گئی تھی جو 20 فروری کو اسرائیل میں تین بسوں پر حملے میں ملوث تھا۔

یاد رہے کہ سال 2025 کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج متعدد بار نابلس کے عین کیمپ پر چھاپے مار چکی ہے۔

غزہ میں سات اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے فلسطینی اتھارٹی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا ہے کہ اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج یا آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 965 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں