محفوظ راستے اور عارضی جنگ بندی کے لیے مصر اور قطر ثالثی کر رہے ہیں: عرب ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

"العربیہ " کے خصوصی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مصری اور قطری ثالث غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کے سمجھوتوں کی ایک سیریز کو منظور کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا مقصد شہریوں کی مشکلات کو کم کرنا اور امداد کی رسائی کو آسان بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ثالث فی الحال چار انسانی راہداریوں کو محفوظ بنانے پر کام کر رہے ہیں جو شہریوں کی نقل و حرکت اور امداد کی تقسیم کی اجازت دیں گی۔ اسرائیلی فریق کے ساتھ ایک ابتدائی سمجھوتہ طے پایا ہے جس کے تحت امدادی تقسیم کے مقامات یا ان کے آس پاس موجود شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

ذرائع نے کہا ہے کہ محدود گھنٹوں کے لیے آزمائی گئی انسانی ہمدردی کی جنگ بندی کو ابتدائی طور پر 72 گھنٹوں تک بڑھانے کے لیے بات چیت کی جارہی ہے جس میں بعد میں توسیع کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ثالثوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹی کے ہسپتالوں میں روزانہ کم از کم پانچ ٹرک ایندھن داخل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ دن کے مخصوص اوقات میں رہائشی علاقوں کے اوپر جنگی طیاروں اور ڈرونز کی پروازوں کو روکنے کی تجاویز بھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بہتر طریقے سے تیار کردہ امدادی تقسیم کے مراکز قائم کرنے اور امداد کی تقسیم کے لیے ایک نئے میکانزم کا تعین کرنے کا بھی منصوبہ ہے جس کا مقصد بھیڑ کو کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ ضرورت مندوں تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتے کے لیے پٹی میں روزانہ کم از کم 150 امدادی ٹرکوں کے داخلے کو مربوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اسرائیلی معائنہ کے طریقہ کار سے متعلق اقدامات میں نرمی کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

خطرناک سطح

عالمی ادارہ صحت نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں غذائی قلت "خطرناک سطح" پر پہنچ گئی ہے اور اشارہ کیا کہ امداد پر جان بوجھ کر پابندی نے بہت سے لوگوں کی جان لے لی ہے حالانکہ ان اموات سے بچا جا سکتا تھا۔ تنظیم نے ایک بیان میں مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں غذائی قلت کی سنگین صورتحال ہے۔ جولائی میں اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ نمایاں ہوا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کو طبی سہولیات پر پہنچنے پر مردہ قرار دیا گیا تھا یا وہ اس کے فوراً بعد انتقال کر گئے تھے اور ان کے جسموں پر شدید کمزوری کے واضح نشانات تھے۔

فوجی کارروائیوں کی معطلی

آج اتوار کو غزہ کی پٹی کے تین علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ فوجی کارروائیوں کی معطلی نافذ العمل ہو گئی جو نئے اقدامات کے تحت ہے جس کا مقصد پٹی میں انسانی بحران سے نمٹنا ہے۔ ان علاقوں میں جنگ بندی کا فیصلہ جنگ میں اسرائیل کے رویے اور غزہ میں قحط کے خطرے سے متعلق بین الاقوامی تنقید کے بعد آیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے آج کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ سٹی، دیر البلح اور المواصی، جو تین زیادہ آبادی والے علاقے ہیں، میں فوجی کارروائیوں کو "تکنیکی طور پر معطل" کرے گی جس کا مقصد پٹی میں داخل ہونے والی انسانی امداد کی مقدار میں اضافہ کرنا ہے۔ جنگ بندی روزانہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک ہوگی اور یہ اتوار سے شروع ہو کر اگلے اطلاع تک نافذ رہے گی۔ فوج نے مزید کہا کہ وہ امداد کی ترسیل کے لیے محفوظ راستے مختص کرے گی اور اس نے غزہ میں فضائی راستے سے امداد گرانے کی کارروائیاں کی ہیں جن میں آٹا، چینی اور ڈبہ بند غذائی اشیاء پر مشتمل امدادی پیکجز شامل تھے۔

امدادی پابندیاں

خوراک کے ماہرین نے مہینوں سے غزہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کیا ہے جہاں اسرائیل نے امداد کی رسائی پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اسرائیل نے یہ دعوی کیا ہے کہ حماس اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے سامان پر قبضہ کر رہی ہے تاہم اسرائیل نے اس دعوے کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔ حالیہ دنوں میں غزہ میں شدید کمزوری کا شکار بچوں کی سامنے آنے والی تصاویر کے باعث اسرائیل پر بین الاقوامی تنقید شروع ہوگئی ہے۔ اسرائیل کے قریبی اتحادیوں نے بھی جنگ اور اس سے ہونے والی انسانی تباہی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ نئے اقدامات اس وقت کیے گئے ہیں جب وہ حماس کے خلاف دیگر علاقوں میں اپنا حملہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں