بیلجیئم کے پارلیمان کی خاتون رکن اور حقوق نسواں کی سرگرم کارکن داریا صفائی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی حکام ان کے اغوا کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیلجیئن سکیورٹی اداروں نے انھیں اس منصوبے سے متعلق خبردار کیا ہے۔
ایران میں پیدا ہونے والی داریا صفائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا کہ "پولیس اور بیلجیئن سکیورٹی اداروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور ایک تشویش ناک صورت حال سے آگاہ کیا جو میری سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے"۔ انھوں نے وضاحت کی کہ "انھیں ایک سنگین اطلاع ملی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام مجھے اغوا کر کے تہران منتقل کرنا چاہتا ہے"۔
سیاسی میدان میں داریا کا تعلق New Flemish Alliance پارٹی سے ہے۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ "وہ اس منصوبے کو ترکی کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور مجھے ترکی نہ جانے کی سختی سے ہدایت دی گئی ہے۔"
داریا نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ وہ اس اغوا کے منصوبے کو ... ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو یورپی یونین میں دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپنی مہم سے جوڑتی ہیں۔ داریا حال ہی میں بیلجیئم کی پارلیمنٹ سے اس حوالے سے ایک قرارداد منظور کروانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صرف چند روز قبل بیلجیئم کی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو "دہشت گرد تنظیم" قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد برسلز اور تہران کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے متعدد پیغامات میں داریا صفائی نے ایرانی نظام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا "تم آج اپنی سب سے کمزور حالت میں ہو۔ میں ایسے مغرب کے لیے لڑ رہی ہوں جو تمھاری دہشت گردی اور جرائم سے پاک ہو، ایک حقیقی اتحادی کے لیے، اور ایک ایسی دنیا کے لیے جہاں تمھاری انتہا پسند سوچ کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔"
انہوں نے ایرانی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا "ہم جیتیں گے، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ ہو۔
یاد رہے کہ داریا صفائی کو 1999 میں ایران میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ پچیس برس کی تھیں۔ اس تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا "میں جانتی ہوں کہ تم کون ہو، اور یہ بھی جانتی ہوں کہ تم لوگ تشدد، جنسی زیادتی اور قتل جیسے مظالم کرتے ہو۔ مجھے ایک دوسرے درجے کی عورت کے طور پر برتاؤ کا سامنا تھا۔"