غزہ میں فوجی دباؤ مؤثر ہے لیکن سفارت کاری کے استعمال کے لیے تیار ہیں: اسرائیلی وزیرِ خارجہ

انہوں نے دو ریاستی حل کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے منگل کو کہا کہ غزہ میں فوجی دباؤ مؤثر ہے۔ پھر بھی یہ واحد آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل سفارت کاری کا استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

غزہ جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی کرنے والے مصر اور قطر نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن دوحہ میں مذاکرات کا تازہ دور گزشتہ ہفتے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گیا۔

سار نے اس بات کو مسترد کر دیا جو ان کے نزدیک غزہ جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی "مسخ شدہ مہم" ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا، اگر اسرائیل یہ تنازعہ روک دے جبکہ حماس بدستور غزہ میں برسرِ اقتدار اور اسرائیلیوں کو قیدی بنائے ہوئے ہو تو یہ "اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے المیہ" ہو گا۔

انہوں نے کہا، "ایسا نہیں ہو گا چاہے اسرائیل پر کتنا ہی دباؤ ڈالا جائے۔"

یروشلم میں ایک پریس بریفنگ میں سار نے اصرار کیا کہ حماس اس تنازعے کی مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اسرائیل پر دباؤ سے صرف اس گروپ کو مزید سخت گیر مؤقف اختیار کرنے کی ترغیب ملے گی۔

انہوں نے کہا، "جب وہ اس جنگ کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ غزہ میں حماس کے اقتدار میں رہتے ہوئے جنگ ختم کرنا؟"

اسرائیل-فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل کے لیے کوششیں بحال کرنے کی غرض سے پیرس سمیت بعض غیر ملکی دارالحکومتوں نے جو اقدام کیا ہے، اس کا بھی سار نے جواب دیا۔

انہوں نے کہا، "فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کل نیویارک میں کہا کہ یورپ کو دو ریاستی حل کو قبول کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔"

نیز کہا، "آج فلسطینی ریاست کے قیام کا مطلب حماس کی ریاست، ایک جہادی ریاست کا قیام ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں