لبنانی فوج کے سربراہ جنرل روڈولف ہیکل نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کا جاری قبضہ، فوج کے مکمل تعینات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
آج جمعے کو لبنانی فوج کے 80 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت توجہ شمالی اور مشرقی سرحدوں کے تحفظ اور اسمگلنگ کی روک تھام پر مرکوز ہے۔ جنرل ہیکل کے مطابق شامی حکومت کے ساتھ سرحدی سیکیورٹی سے متعلق رابطہ بھی جاری ہے۔
بیروت میں اپنے خطاب میں جنرل ہیکل نے کہا کہ فوج داخلی استحکام اور قومی امن کے تحفظ پر پوری توجہ دے رہی ہے اور اسرائیلی خلاف ورزیوں سمیت تمام تر چیلنجوں کے باوجود قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے شامی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو دونوں ملکوں کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا ... اور بتایا کہ فوج دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے ارکان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل لبنانی صدر جوزف عون نے فوج کے یومِ تاسیس کے موقع پر بیروت میں کہا تھا کہ فوج ہی لبنان کی وحدت، خود مختاری اور سرحدوں کی حرمت کی ضامن ہے۔ انھوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا تھا کہ اسلحہ صرف فوج کے پاس ہونا چاہیے اور اس حوالے سے حزب اللہ سے اسلحہ واپس لے کر فوج کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
یاد رہے کہ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان میں 5 مقامات پر قابض ہے۔
اس دوران امریکا نے لبنان سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا با ضابطہ عہد مانگا ہے تاکہ اسرائیلی فوجی کارروائی روکنے اور انخلا کے مذاکرات بحال کیے جا سکیں۔
خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق امریکا نے واضح کیا ہے کہ اگر لبنانی حکومت اس مطالبے پر فیصلہ نہیں کرتی تو اس مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹوم براک کو بیروت نہیں بھیجا جائے گا، اور نہ امریکا اسرائیلی حملے روکنے یا اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے تل ابیب پر کوئی دباؤ ڈالے گا۔