مشرق وسطیٰ

اسرائیلی افواج کے ہاتھوں غزہ میں خوراک کے متلاشی 20 سے زائد افراد ہلاک: عینی شاہدین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ہسپتال کے حکام اور عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز غزہ کی پٹی میں خوراک کے متلاشی کم از کم 23 فلسطینیوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا۔ فاقہ زدہ ہجوم امدادی مقامات کے گرد جمع تھا جن پر گولیاں چلا دی گئیں۔ اس طرح غذائی قلت سے متعلق اموات کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔

بیس لاکھ سے زائد آبادی والی فلسطینی سرزمین کو مایوسی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں ماہرین نے قحط کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

امدادی مرکز پر جاتے ہوئے ہجوم میں شامل یوسف عابد نے اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آنے کے بارے میں بتایا جہاں کم از کم تین زخمی افراد کا خون زمین پر بہہ رہا تھا۔

انہوں نے کہا، "میں گولیوں کی وجہ سے انہیں روک اور ان کی مدد نہیں کر سکا۔"

جنوبی غزہ کے ناصر ہسپتال نے بتایا کہ انہیں خان یونس میں تقسیم کی جگہ سے لاشیں ملیں اور شکوش سے بھی ایک لاش ملی۔ ہسپتال نے مزید بتایا کہ موراگ راہداری کے قریب فوجیوں کے ہاتھوں مزید نو افراد ہلاک ہو گئے جو اسرائیلی سرحدی راہداری سے غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کا انتظار کر رہے تھے۔

تین فلسطینی عینی شاہدین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فائرنگ تقسیمی مقامات کے راستے پر ہوئی جو اسرائیلی افواج کے زیرِ حفاظت فوجی علاقوں میں ہیں۔ اور انہوں نے فوجیوں کو بھوکے ہجوم پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جو فوجیوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

وسطی غزہ میں مزید شمال میں ہسپتال کے اہلکاروں نے اسی طرح کا ایک واقعہ بیان کیا جب اسرائیلی فوجیوں نے اتوار کی صبح فلسطینیوں کے ہجوم پر گولی چلا دی جو خوراک حاصل کرنا چاہتے تھے۔

امداد کے متلاشیوں میں سے ایک حمزہ مطر نے کہا، "فوجی لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے گولی چلائی اور ہم بھاگ گئے۔ بعض لوگوں کو گولی لگ گئی۔"

العودہ ہسپتال نے بتایا کہ نیتزارم کے قریب جی ایچ ایف مرکز پر کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے۔

اس پٹی میں خوراک کی تلاش کرنے والے عینی شاہدین نے حالیہ دنوں میں امدادی مقامات کے قریب گولیوں کے ایسے ہی حملوں کی اطلاع دی ہے جس میں درجنوں فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیل نے حماس کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر خوراک کی چوری کے ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جی ایچ ایف نے کہا ہے کہ اس کے مسلح ٹھیکیداروں نے مہلک ہجوم کو روکنے کے لیے صرف سیاہ مرچ کے سپرے کا استعمال کیا ہے یا انتباہی گولیاں چلائی ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ صرف انتباہی گولیاں چلاتی ہے۔

دونوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہے۔

نہ اسرائیلی فوج اور نہ ہی جی ایچ ایف نے اتوار کی اطلاع شدہ ہلاکتوں کے بارے میں سوالات کا فوری جواب دیا۔

دریں اثناء غزہ کی وزارتِ صحت نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں غذائیت کی قلت سے متعلق وجوہات کی بنا پر مزید چھے فلسطینی بالغ افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے گذشتہ پانچ ہفتوں میں فلسطینی بالغوں میں ہلاک شدگان کی تعداد 82 ہو گئی ہے جب سے وزارت نے جون کے آخر میں بالغوں میں اموات کی گنتی شروع کی تھی۔

وزارت نے کہا کہ 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے 93 بچے بھی غذائی قلت سے متعلق وجوہات کی بنا پر ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں