اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں کارروائیاں، اسلحہ برآمد اور مشتبہ افراد سے پوچھ تاچھ

گولان کے قریب بیک وقت چار مقامات پر چھاپے، اسلحہ ضبطی کے لئے بھرپور کارروائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے جنوبی شام میں گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک کئی مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں، جن کے دوران اسلحہ برآمد کیا گیا اور ان افراد سے تفتیش کی گئی جن پر اسلحہ سمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

فوجی بیان کے مطابق اسرائیلی افواج نے حضر کے علاقے میں جو جنوبی شام میں گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع ہے، گزشتہ رات اسلحہ اسمگلنگ کے شبے میں ملوث افراد سے موقع پر تفتیش کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "افواج نے بیک وقت چار مختلف مقامات پر کارروائی کی، جہاں مشتبہ افراد کی جانب سے منتقل کیا جانے والا اسلحہ قبضے میں لیا گیا"۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی بکتر بند گاڑیوں میں اور پیادہ شکل میں رات کے وقت کارروائیاں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بیان کے مطابق اسرائیلی افواج کی یہ کارروائیاں شام میں مبینہ "دہشت گرد عناصر" کی موجودگی روکنے کے لیے جاری ہیں، تاکہ اسرائیلی شہریوں اور خاص طور پر گولان کی پہاڑیوں کے مکینوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ کارروائیاں اُن کئی سرگرمیوں کی کڑی ہیں جو اسرائیلی افواج نے حالیہ مہینوں میں شامی سرزمین پر انجام دی ہیں۔

واضح رہے کہ 2024 ء کے آخر میں جب اپوزیشن گروہوں نے بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹایا، تو اسرائیلی فورسز نے گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ واقع غیر فوجی علاقے میں پیش قدمی کی تھی اور سینکڑوں فضائی حملے شامی فوج کے سابقہ ٹھکانوں پر کیے تھے۔

جولائی میں بھی اسرائیل نے دمشق اور السویداء میں شامی نئی قیادت کے زیرِ انتظام عسکری اہداف کو نشانہ بنایا تھا، جب السویداء میں جھڑپیں جاری تھیں۔

اسرائیل ماضی میں کئی بار واضح کر چکا ہے کہ وہ شام کے جنوبی حصے میں، گولان کی سرحد کے قریب، نئی شامی حکومت کو عسکری تنصیبات قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں