اسرائیلی ٹینکوں کی غزہ کے وسط میں نتساریم راہ داری کے قریب پیش قدمی: "العربیہ"
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق سکیورٹی ادارے ان علاقوں میں فوجی کارروائی کے مخالف ہیں جہاں یرغمالی موجود ہیں
اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں "نتساریم راہ داری" کے قریب پیش قدمی شروع کر دی۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پوری غزہ کی پٹی پر قبضے اور ایک نئے فوجی آپریشن کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔
العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے پیر کی شب بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے وسطی غزہ میں نتساریم راہ داری کے قریب پیش قدمی کی۔
اس سے قبل اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے پورے غزہ پر قبضے اور فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے ان علاقوں میں کارروائی کی مخالفت کی ہے جہاں اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں۔
اسرائیلی ٹی "چینل 14" کے مطابق یہ فیصلہ کابینہ کرے گی کہ غزہ پر قبضہ کیا جائے یا نہیں۔
نیتن یاہو نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ سیکورٹی کابینہ کا اجلاس اسی ہفتے بلایا جائے گا تاکہ غزہ میں جنگ کے آئندہ مرحلے سے متعلق فیصلہ کیا جا سکے۔ حکومتی اجلاس کے آغاز پر انھوں نے کہا "میں اس ہفتے کے دوران کابینہ کا اجلاس بلاؤں گا تاکہ فوج کو ہدایات دی جا سکیں کہ جنگ کے تین اہداف کیسے حاصل کیے جائیں یعنی دشمن کی شکست، یرغمالیوں کی رہائی اور اس امر کو یقینی بنانا کہ غزہ آئندہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے۔"
انھوں نے زور دے کر کہا "ہمیں متحد رہ کر اور مل کر لڑتے ہوئے اپنے تمام مقاصد حاصل کرنا ہوں گے۔"
وزیر اعظم نے سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس کی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔
دوسری جانب شہری دفاع کے فلسطینی محکمے نے پیر کو بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں 19 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو امدادی سامان کی تقسیم کے مراکز کے قریب موجود تھے۔
محکمے کے ترجمان محمود بصل نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اسرائیلی بم باری میں "غزہ کے وسطی علاقے میں وادی غزہ کے پل کے قریب واقع شاہراہ صلاح الدین پر امدادی مرکز کے نزدیک شہریوں کے مجمع" کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے آٹھ لاشیں اور 55 سے زائد زخمی اسپتال منتقل کیے گئے۔
جاں بحق اور زخمی افراد کو النصیرات کیمپ کے قریب واقع اسپتال "العودہ" لے جایا گیا، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی۔
بصل کے مطابق، جنوبی شہر رفح کے علاقے المواصی میں ایک خاتون کو اسرائیلی فوج نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
وسطی علاقے دیر البلح کے "حکر الجامع" محلے میں ایک گھر پر صبح سویرے کی گئی فضائی کارروائی میں تین افراد جاں بحق ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
اسی طرح غزہ شہر کے مشرقی علاقے الشجاعیہ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں چار افراد مارے گئے، جبکہ شمالی علاقے بیت لاہیا میں شہریوں کے ایک اور مجمع پر حملے میں دو مزید افراد جاں بحق ہوئے۔ لاشوں اور زخمیوں کو غزہ کے قدیم علاقے میں واقع "المعمدانی ہسپتال" منتقل کیا گیا۔
خان یونس کے جنوب مغرب میں الطینہ کے مقام پر اسرائیلی ڈرون نے امداد کے منتظر افراد کو نشانہ بنایا، جہاں سے ایک خاتون کی لاش منتقل کی گئی۔
ادھر غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران "قحط اور غذائی قلت کے باعث پانچ بالغ افراد" جاں بحق ہو گئے۔
وزارت کے مطابق اس طرح قحط اور غذائی قلت سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 180 ہو گئی ہے، جن میں 93 بچے شامل ہیں۔