سعودی معیشت

ساحلوں سے لے کر معیشت تک: سعودی عرب کا پائیدار ترقی کے لیے سمندروں پر انحصار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب ’’ بلیو اکانومی ‘‘ میں سرمایہ کاری کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ قومی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا اور خلیج عرب اور بحیرہ احمر پر پھیلے 2,640 کلومیٹر سے زیادہ ساحلوں اور 300 سے زائد جزیروں پر مشتمل اپنی سمندری دولت کی حفاظت کرنا ہے۔ سعودی عرب ’’بلیو اکانومی ‘‘ پر انحصار کر رہا ہے جسے ایک ترقیاتی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو سمندروں اور آبی ذخائر سے اقتصادی فوائد حاصل کرنے کو ان کی ماحولیاتی پائیداری کے تحفظ سے جوڑتا ہے۔ سعودی عرب اس آپشن پر اس لیے بھروسہ کر رہا ہے تاکہ آبی وسائل کی سرمایہ کاری کی جا سکے اور ماحولیاتی سیاحت اور بجلی کے لیے آبی توانائی جیسے متعدد فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ اس سے معاشی ترقی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، ماحولیاتی نظام کی حفاظت اور اس کے تنوع کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس معیشت کی سرگرمیوں میں پائیدار ماہی گیری، آبی حیات کی پرورش، سمندری سیاحت کی ترقی، ہوا اور لہروں سے صاف توانائی کی پیداوار، اور بحری نقل و حمل شامل ہیں۔ سعودی عرب میں اس قسم کی سرمایہ کاری کے لیے مناسب مرجان کی چٹانیں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔

قومی حکمت عملی

دسمبر 2024 میں مملکت نے بحیرہ احمر کی پائیداری کے لیے قومی حکمت عملی کا آغاز کیا جس کا مقصد 2030 تک سمندری اور ساحلی محفوظ علاقوں کا تناسب 3 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنا، قابل تجدید توانائی کا حصہ 50 فیصد تک بڑھانا اور سمندری شعبوں میں ہزاروں نوکریاں پیدا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد جی ڈی پی میں بلیو اکانومی کے حصہ کو بڑھانا ہے۔

سعودی ساحل پر دنیا کی آٹھویں سب سے بڑی مرجان کی چٹانیں ہیں جن کا رقبہ 6,600 مربع کلومیٹر ہے اور 204 مربع کلومیٹر مینگروو کے جنگلات ہیں۔ اس کے علاوہ 2022 میں بحیرہ احمر میں 20 سے زیادہ ’’بلیو ہولز ‘‘ بھی دریافت ہوئے ہیں۔ یہ دولت مملکت کو قابل تجدید سیاحت، بحری لاجسٹکس اور بڑے ماحولیاتی منصوبوں میں اپنی سرمایہ کاری کو تیز کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

منفرد اقدامات

"امالا" اور "سندالہ" (نیوم میں) اور "اوکساگون" شہر اور شاہ سلمان بین الاقوامی میرین انڈسٹریز اینڈ سروسز کمپلیکس جو راس الخیر (مشرقی سعودی عرب) میں واقع ہے، میں سعودی عرب کی طرف سے بلیو اکانومی کو فروغ دینے کے لیے سب سے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ یہ اقدامات سیاحت، بحری خدمات اور جدید صنعتوں میں تکنیکی جدت اور ماحولیاتی پائیداری کو یکجا کرتے ہیں۔

سعودی عرب نے 2030 تک اپنے 30 فیصد زمینی اور سمندری رقبے کی حفاظت کا بھی عزم کیا ہے اور اس نے G20 کی اپنی صدارت کے دوران CORDAP فاؤنڈیشن کے قیام میں 100 ملین ڈالر کی ابتدائی فنڈنگ کے ساتھ تعاون کیا جس کا مقصد دنیا بھر میں خطرے سے دوچار مرجان کی چٹانوں کی حفاظت کے لیے تحقیق اور جدت کو تیز کرنا ہے۔ مرجان کی چٹانیں اہم قدرتی وسائل ہیں جن پر تقریباً ایک ارب لوگ خوراک، آمدنی اور ادویات کے لیے انحصار کرتے ہیں اور یہ ساحلوں کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بحیرہ احمر کے ساحل پر نیوم کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( کے ساتھ مل کر دنیا کا سب سے بڑا مرجان باغ بنایا جا رہا ہے جس کی تکمیل اس سال متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں