القدس کے اطراف بستیوں کی تعمیر کی قابل مذمت ہے: سعودی عرب

اسرائیلی حکومت امن عمل میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی اور دو ریاستی حل کے امکان کو خطرہ بنا رہی ہے: وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیلی قابض حکام کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کے ارد گرد بستیوں کی تعمیر کی منظوری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بیان میں اسرائیلی وزیر خارجہ کے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے بیانات کی مذمت کی گئی۔ بیان میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ان کی خود مختار ریاست کے قیام کے ناقابل تنسیخ حق اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے پر شدید مذمت کی گئی۔

سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی سرگرمیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ۔ سعودی عرب مشرقی القدس اور 1967 سے مقبوضہ علاقے میں اسرائیل کی بستیوں کے قیام کے غیر قانونی ہونے کی توثیق کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے یہ فیصلے اور بیانات اس اسرائیلی حکومت کی غیر قانونی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل، اس کے امن عمل میں رکاوٹ اور دو ریاستی حل کے امکان کے لیے سنگین خطرے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرے۔ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سمیت فلسطینیوں کو جائز حقوق دلانے کی اپنی ذمہ داری نبھائے۔

سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں اسرائیل کو غزہ پر اپنی جارحیت روکنے اور مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں اس کی غیر قانونی خلاف ورزیوں کو روکنے اور فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کو روکنے کا کہا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ ان جرائم کے مرتبک افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

ریاض نے یہودی بستیوں کی تعمیر، جبری نقل مکانی اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق سے انکار پر مبنی اسرائیلی پالیسیوں کو واضح طور پر مسترد کرنے کا بھی اعادہ کیا۔ ریاض نے عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قابض حکام کو فلسطینی عوام اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین کے خلاف اپنے جرائم روکنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے پر مجبور کرنے کے لیے فوری اقدام کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں