اسرائیلی وزیر نے مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے الگ کرنے والی آبادی کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزالل سموٹریچ نے راتوں رات ایک ایسی اسرائیلی آبادی کے منصوبے کی منظوری دے دی جو مشرقی یروشلم کو مقبوضہ مغربی کنارے سے الگ کر دے گی۔ اس اقدام کے بارے میں ان کے دفتر نے کہا ہے کہ یہ فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر دے گا۔

یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی کہ آیا وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے طویل عرصے سے منجمد ای ون سکیم کی بحالی کے منصوبے کی حمایت کی ہے جس کے بارے میں فلسطینیوں اور عالمی طاقتوں نے کہا ہے کہ اس سے مغربی کنارہ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اور بین الاقوامی سطح پر ممکنہ مذمت سامنے آئے گی۔

"فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنا" کی سرخی کے ساتھ ایک بیان میں سموٹریچ کے ترجمان نے کہا، وزیر جمعرات کو بعد میں ایک پریس کانفرنس کریں گے جس میں مغربی کنارے اور یروشلم میں ایک موجودہ آبادی کے درمیان اسرائیلی آباد کاروں کے لیے 3,401 مکانات کی تعمیر کے منصوبے سے آگاہ کیا جائے گا۔

امریکہ، یورپی اتحادیوں اور دیگر عالمی طاقتوں کے اعتراضات کے باعث اسرائیل نے 2012 سے وہاں تعمیراتی منصوبے منجمد کر دیئے تھے۔ اتحادیوں نے اس منصوبے کو فلسطینیوں کے ساتھ مستقبل کے امن معاہدے کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں