کئی برس بعد مروان البرغوثی کی پہلی وڈیو .... چہرے کے خد و خال بدل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی اتھارٹی نے اس منظر کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے جس میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گوئیر گانوت کی جیل میں قید فتح موومنٹ کے سینئر رہنما مروان برغوثی کی انفرادی کوٹھڑی کے اندر نظر آئے۔

برغوثی، جو طویل برسوں کی قید کے بعد پہلی بار منظرِ عام پر آئے، کمزور دکھائی دے رہے تھے، جبکہ بن گوئیر دھمکیاں دیتے ہوئے بات کر رہے تھے۔ اسرائیلی چینلوں کی جانب سے جمعرات کی شام نشر کی گئی وڈیو میں بن گوئیر نے کہا "تم جیت نہیں سکو گے ... جو اسرائیل کے عوام کو نشانہ بنائے اور ہمارے بیٹوں اور عورتوں کو قتل کرے، ہم اسے مٹا دیں گے۔"

دوسری جانب فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بن گوئیر کے برغوثی کی کوٹھڑی میں داخل ہونے اور انھیں دھمکانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "غیر معمولی اشتعال انگیزی اور منظم ریاستی دہشت گردی" قرار دیا۔

فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے بن گوئیر کی دھمکی کو "نفسیاتی، معنوی اور جسمانی دہشت گردی کی انتہا" قرار دیا۔ انھوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا "قائد مروان برغوثی کو ان کے قید خانے میں بن گوئیر کی دھمکی، قید شدہ فلسطینیوں کے خلاف نفسیاتی، معنوی اور جسمانی دہشت گردی کی انتہا ہے ... یہ بین الاقوامی اور انسانی معاہدوں اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔"

الشیخ نے مزید کہا کہ یہ اقدام "اسرائیل کی قید پالیسی میں غیر معمولی انارکی" ہے اور بین الاقوامی و انسانی اداروں کی فوری مداخلت سے ان کی حفاظت کی ضرورت ہے۔

فلسطینی قیدی مروان برغوثی کی تصویر (آرکائیو - اے ایف پی)
فلسطینی قیدی مروان برغوثی کی تصویر (آرکائیو - اے ایف پی)

فلسطینی اتھارٹی میں قیدیوں کے امور کی ایجنسی کے سربراہ رائد ابو الحمص نے بھی فتح کے سینئر رہنما کی زندگی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔
برغوثی کے خاندان نے تصدیق کی ہے کہ ان کے چہرے کے خدوخال بدل گئے ہیں۔ انھوں نے بن گوئیر پر براہِ راست برغوثی کو پھانسی دینے کی دھمکی کا الزام لگایا۔
یاد رہے کہ مروان برغوثی اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے عمائدین میں سے ایک ہیں۔ انھیں 2002 میں گرفتار کیا گیا تھا اور پانچ بار عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

چند ماہ قبل قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر سابقہ مذاکرات کے مراحل میں حماس تنظیم نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں