’غزہ میں جزوی معاہدہ منظور نہیں‘ نیتن یاھو حکومت میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے پیر کی شب قاہرہ میں مصری اور قطری ثالثوں کو آگاہ کیا کہ اس نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی دو مرحلوں میں رہائی سے متعلق نئے تجویز کردہ معاہدے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس پیشکش پر اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جلد جواب دے گا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اپنے حکومتی اتحادیوں کے دباؤ کے باعث کسی بھی جزوی معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں، تاہم یہ امکان ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیا تو وہ اسے قبول بھی کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب نیتن یاھو کو اپنی حکومت میں دائیں بازو کے سخت گیر وزراء کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان میں وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر شامل ہیں، جو کسی بھی جزوی سمجھوتے کو "قیادت کی کمزوری" قرار دیتے ہیں۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو

سموٹریچ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ "آدھے راستے میں رکنے کا کوئی امکان نہیں"۔ بن گویر نے بھی عارضی یا جزوی حل کو مسترد کرتے ہوئے اسی مؤقف کو دہرایا۔

وزیر برائے آبادکاری اوریٹ سٹروک نے ایکس پر لکھا کہ "جزوی معاہدوں کے دن گزر گئے ہیں۔ ایسے معاہدے بڑے نقصانات کے سوا کچھ نہیں لاتے۔" اسی طرح وزیر برائے امور نقب و جلیل یتسحاق فاسرلاوف بھی صرف مکمل معاہدے کے حامی ہیں۔

نیتن یاہو اور سموٹریچ
نیتن یاہو اور سموٹریچ

البتہ حکومت میں اختلافات نمایاں ہیں۔ وزیر خارجہ جدعون ساعر اور حزب "چاس" کے سربراہ اریئل درعی نے جزوی معاہدے پر بات چیت میں لچک دکھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کم از کم آدھے اسرائیلی قیدی رہا ہو سکتے ہیں۔

اس دوران تل ابیب میں قیدیوں کے اہل خانہ کے مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی اور قیدیوں کی واپسی کے لیے معاہدہ کرے۔

ذرائع کے مطابق حماس نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ ابتدائی طور پر 20 روزہ جنگ بندی اور آدھے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر آمادہ ہے، جبکہ باقی قیدی دوسری مرحلے میں رہا کیے جائیں گے۔ ایک فلسطینی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ثالثوں نے حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کو "عمل درآمد کی ضمانت" بھی دی ہے ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ بعد ازاں مستقل حل پر بات چیت بھی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ اس وقت غزہ میں تقریباً 20 اسرائیلی قیدی زندہ حالت میں موجود ہیں، جبکہ 30 کے قریب ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی برسوں سے قید ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں