سکیورٹی فورسز کسی بھی احتجاج کے دوران بد امنی یا حملوں کی اجازت نہیں دیں گی : لبنانی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار نے زور دے کر کہا ہے کہ سب کے مفاد میں یہی ہے کہ ہتھیار ریاست کے حوالے کیے جائیں۔ یہ بیان حزب اللہ کی جانب سے کل وسطی بیروت میں مجوزہ احتجاجی ریلی کی کال واپس لینے کے بعد سامنے آیا ہے۔ مذکورہ کال حکومت کے اُس فیصلے کے خلاف دی گئی تھی جس کے تحت تمام اسلحہ ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔

الحجار نے آج پیر کے روز العربیہ/الحدث سے گفتگو میں کہا کہ لبنان میں کوئی بھی دوبارہ خانہ جنگی نہیں چاہتا۔

سڑکوں پر احتجاج

حکومتی فیصلوں کے خلاف مظاہروں کی کال کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ "سکیورٹی فورسز کسی بھی احتجاج کے دوران بد امنی یا حملوں کی اجازت نہیں دیں گی۔"

اس سے قبل حزب اللہ اور امل موومنٹ نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ سڑکوں پر نکلیں گے تاکہ حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کیا جا سکے جس کے تحت حزب اللہ کا اسلحہ بھی ضبط کیا جانا ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنے بیان میں "مزاحمت کے ہتھیار کو ایک با عزت ہتھیار قرار دیا جو وطن کا دفاع کرتا ہے"۔ بیان میں عوام سے بیرونی دباؤ کو مسترد کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

تاہم چند گھنٹوں بعد دونوں جماعتوں نے اعلان کیا کہ یہ مظاہرہ مؤخر کیا جا رہا ہے تاکہ "مکالمے کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔" یہ پہلا موقع تھا کہ حزب اللہ نے با ضابطہ طور پر سڑکوں پر نکلنے کی کال دی ہو۔ اس سے پہلے اس کے حامی بیروت کی سڑکوں پر موٹر سائیکل ریلیوں کے ذریعے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے رہے تھے۔

یاد رہے کہ لبنانی حکومت نے اگست کے اوائل میں فیصلہ کیا تھا کہ تمام اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہوگا۔ اس مقصد کے لیے فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر تک ایک عملی منصوبہ تیار کرے، تاکہ 2025 کے اختتام تک ہتھیاروں کی حوالگی مکمل ہو سکے۔

وزیر اعظم نواف سلام اور صدر جوزف عون دونوں نے اس حکومتی فیصلے کو "غیر معمولی اور بے مثال" قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size