حزب اللہ کے زخم بھول گئے، لبنان کے ساتھ اسد دور کے تعلقات کو پیچھے چھوڑ رہے: احمد الشرع
لبنان کے بارے میں سعودی عرب، فرانس اور امریکہ کے ساتھ اتفاق رائے ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے ایک واضح پروگرام کی ضرورت ہے
شام کے صدر احمد الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی تقسیم سے ملک نہیں بن سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ اور روایتی بنیادوں پر مبنی سیاسی خیالات سے ملک کا نظام ٹھپ ہو جائے گا۔ لبنان- شام تعلقات کے بارے میں احمد الشرع نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اسد خاندان کی حکومت کے دور کے تعلقات کو ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان "آگ کے دریا" کے نظریے کو مسترد کیا۔
احمد الشرع نے واضح کیا کہ لبنان نے گزشتہ برسوں کے دوران شام کی پالیسیوں سے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے خاص طور پر دونوں اسد یعنی حافظ الاسد اور بشارالاسد کی حکومت کے دوران نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمشق لبنان کے ساتھ ایک نیا باب شروع کرنا چاہتا ہے اور لبنان پر قابو نہیں پانا چاہتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے شام نے حزب اللہ کے حملوں سے ہونے والے زخموں کو فراموش کر دیا ہے۔ شامی صدر نے مزید کہا کہ اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بہت سے باہمی تعاون کے مواقع موجود ہیں جو آنے والے دور میں شام اور لبنان کے تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے شام کے لبنان سے الگ ہونے کے نظریات کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ایران نے دمشق کو کھو کر پورا نام نہاد مزاحمتی محور کھو دیا ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح واپس آنے کی خواہش رکھتا ہے۔