لبنانی فوج نے جمعرات کو فلسطینی کیمپوں سے اسلحہ واپس لینے کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد شروع کیا ہے۔
لبنانی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ فوج نے خانہ جنگی کے اختتام کے بعد سب سے بڑی اسلحہ جمع کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
فوج کے حق میں بین الاقوامی حمایت
ذرائع کے مطابق یہ مہم دریائے لیتانی کے شمال اور جنوب میں واقع فلسطینی کیمپوں میں چلائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کے تعاون سے کیا گیا ہے۔ فوج نے بتایا کہ اسے جنوبی لبنان کے الرشیدیہ کیمپ سے سات ٹرکوں پر مشتمل بھاری ہتھیار جمع کیے ہیں۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ سال 2025 ءکے اختتام سے قبل فوج کی حمایت کے لیے بین الاقوامی تعاون کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
فیصلے کا پس منظر
چند روز قبل بیروت کے نواحی علاقے برج البراجنہ کیمپ سے فلسطینی اسلحہ کی حوالگی کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہ عمل 21 مئی کو لبنانی صدر جوزف عون اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ہونے والی سربراہ ملاقات کے فیصلوں کے مطابق ہے، جس میں لبنان کی مکمل خودمختاری، ریاستی اختیار کے نفاذ اور اسلحے کے انحصار کو صرف فوج تک محدود رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔
فلسطینی پناہ گزین اور کیمپ
اقوام متحدہ کی ایجنسی "اونروا" کے اعداد و شمار کے مطابق لبنان میں 4 لاکھ 89 ہزار سے زائد فلسطینی رجسٹرڈ ہیں، تاہم اصل تعداد تقریباً تین لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔
یہ پناہ گزین بارہ کیمپوں میں آباد ہیں، جن میں سب سے بڑا اور خطرناک تصور کیا جانے والا عین الحلوہ ہے۔ دیگر کیمپوں میں میہ و میہ، الرشیدیہ، البص، شمالی البرج ، برج البراجنہ، صبرا و شاتیلا، مارالیاس (بیروت)، نہرالبارد (شمالی لبنان)، البداوی (شمالی لبنان)، الویفل (بعلبک) اور ضبیہ (جبل لبنان) شامل ہیں۔
یاد رہے کہ فلسطینی اسلحے کی حوالگی تین مراحل میں مکمل کی جائے گی۔ پہلے مرحلے کا آغاز بیروت کے برج کیمپ سے ہو چکا ہے، جس کے بعد جنوبی لبنان کے صور میں البص کیمپ، پھر شمال میں البداوی اور آخر میں جنوبی لبنان کے الرشیدیہ کیمپ سے اسلحہ تحویل میں لیا جائے گا۔