یورپی کمیشن کی سربراہ روس پر "چراغ پا".... برسلز میں روسی مندوب طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یوکرین کے دار الحکومت کئیف میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں یورپی کمیشن کے مشن کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے کے بعد .... یورپی یونین نے برسلز میں روسی مندوب کو طلب کر لیا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے کہا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کئیف پر ہونے والے روسی حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے اور کمیشن کے مشن کو نقصان پہنچا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماسکو کو یوکرین کو "خوف زدہ" کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ حملہ "جولائی کے بعد دارالحکومت میں سب سے زیادہ جان لیوا حملہ تھا، اور یہ ہمارے مشن پر بھی حملہ ہے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ حملہ "یہ ظاہر کرتا ہے کہ کریملن کو یوکرین کو دہشت زدہ کرنے، شہری مردوں، عورتوں اور بچوں کے اندھا دھند قتل اور حتیٰ کہ یورپی یونین کو نشانہ بنانے سے بھی کوئی چیز باز نہیں رکھ سکتی"۔

ان کے مطابق "دو میزائل یورپی مشن کے ہیڈکوارٹر سے صرف 50 میٹر کے فاصلے پر، 20 سیکنڈ کے وقفے سے گرے"۔ انھوں نے کہا "میں اس بات پر شدید غصے میں ہوں کہ ہمارے مشن کے قریب میزائل گرے"۔

پابندیوں کا 19 واں پیکیج

انھوں نے مزید بتایا کہ کمیشن روس کے منجمد اثاثوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر کام کرے گا تاکہ یوکرین کی مدد کی جا سکے، اور ماسکو پر جلد ہی 19 واں پابندیوں کا پیکیج عائد کیا جائے گا۔

روس کے تازہ حملوں میں کئیف میں 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جواب میں یوکرینی فوج نے کراسنودار کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں روس نے اعلان کیا کہ جنوبی علاقے کراسنودار میں ایک تیل صاف کرنے کے کارخانے میں ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ حملہ یوکرین کی جاری مہم کا حصہ تھا، جس کے تحت وہ روسی معیشت کے سب سے اہم شعبے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اسی ماہ کئیف نے روسی تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور برآمدی ڈھانچے پر ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں، تاکہ اپنی جوابی صلاحیت کا اظہار کر سکے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا امن معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں