امریکی نوجوان کے والدین کابیٹےکوخود کشی پراکسانے کےالزام میں’چیٹ جی پی ٹی‘ کمپنی پر مقدمہ
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ایک جوڑے نے اپنے نوعمر بیٹے کی خودکشی پر’اوپن اے آئی‘ کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنی کے ملکیتی ’چیٹ جی پی ٹی‘ پلیٹ فارم نے ان کے بیٹے کو خودکشی پر اکسایا تھا۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں ’اوپن اے آئی‘ پر قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔ مات اور ماریا رائن نے جن کے 16 سالہ بیٹے ایڈم نے گذشتہ اپریل میں خودکشی کر لی تھی منگل کو کیلی فورنیا کی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔
مقدمے میں ایڈم اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان ہونے والی چیٹس بھی پیش کی گئیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوعمر لڑکا اپنی خودکشی کی خواہشات کے بارے میں چیٹ جی پی ٹی سے بات کر رہا تھا۔
"چیٹ جی پی ٹی نے تباہ کن خیالات کی حوصلہ افزائی کی"
اہل خانہ نے الزام لگایا کہ مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے ایڈم کے تخریب کارانہ خیالات کی حوصلہ افزائی کی۔ والدین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ چیٹ بوٹ نے ان کے بیٹے کو خودکشی کے بارے میں خیالات پیش کیےاور اسے خودکشی پر اکسایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ ’اے آئی‘ نہ ہوتا تو ان کا بیٹا آج بھی زندہ ہوتا۔
مقدمے میں اس کیس کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ اس کے مطابق ایڈم نے ستمبر سنہ 2024ء میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال اپنے سکول کے ہوم ورک میں مدد اور اپنی دلچسپیوں جیسے موسیقی اور جاپانی مزاحیہ کہانیوں کے بارے میں جاننے کے لیے کیا تھا۔ وہ اسے کالج میں داخلے کے لیے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا تھا۔
Parents of a 16-year-old have filed a lawsuit against OpenAI, claiming ChatGPT provided their late son, Adam Raine, with step-by-step instructions to take his own life.
— Daily Loud (@DailyLoud) August 27, 2025
They say they firmly believe he would still be alive if it weren’t for the AI. pic.twitter.com/zP5VnU37vT
کچھ مہینوں بعد چیٹ جی پی ٹی ایڈم کے بہت قریب ہو گیا اور وہ اس سے اپنے ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے لگا۔
’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق جنوری سنہ 2025ء تک ایڈم نے چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے طریقوں پر بات کرنا شروع کر دی تھی۔ اس نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ خود کو نقصان پہنچانے والی تصاویر بھی شیئر کیں۔
مقدمے کے مطابق آخری چیٹ ریکارڈز میں ایڈم نے اپنی زندگی ختم کرنے کا منصوبہ لکھا تھا۔ اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے جواب میں کہا کہ "آپ کی سچائی کا شکریہ، آپ کو مجھ سے بات کرتے وقت حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور میں اسے نظر انداز نہیں کروں گا۔" اسی دن، ایڈم کی والدہ کو اس کی لاش ملی۔
"تحفظ کے نظام نے کام نہیں کیا"
اوپن اے آئی کمپنی نے رائن خاندان سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے "حالیہ تکلیف دہ واقعات" ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہیں۔
کمپنی نے مزید کہا کہ چیٹ بوٹ کو لوگوں کو ماہرانہ مدد حاصل کرنے کی ہدایت دینے کی تربیت دی گئی ہے، جیسے امریکہ یا برطانیہ میں 988 خودکشی اور بحران ہیلپ لائن کے بارے میں اسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
تاہم کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ "کچھ حساس صورتحال میں تحفظ کے نظام نے اس طرح کام نہیں کیا جیسا کہ اسے کرنا چاہیے تھا۔
-
سعودی عرب : مصنوعی ذہانت کے میدان میں تیسرا بڑا ملک بننے کے عزم کے ساتھ
سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کے ذمہ دار طارق امین کا کہنا ہے مملکت دنیا کے ...
مشرق وسطی -
سیب یا ناشپاتی والی شکل کا جسم: کس سے دل کی صحت کو زیادہ خطرہ ہے؟
پتلے افراد کے جسم میں "چھپی ہوئی" چربی ہوتی اور انہیں جان لیوا دل کے دورے کا ...
ایڈیٹر کی پسند -
امریکہ : احتجاج کرنے والے شخص پر تشدد، لاس اینجلس پولیس پر 22 لاکھ ڈالر جرمانہ
امریکی ریاست لاس اینجلس کی ایک جیوری نے فیصلہ دیا ہے کہ شہر کی پولیس کو کم از کم ...
بين الاقوامى