اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ پر مشتمل یورپی ٹرائیکا نے تہران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے میں تاخیر کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن یہ منصوبہ غیر حقیقی شرائط سے بھرا ہوا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تین ممالک کو قرارداد 2231 کی ایک مختصر اور غیر مشروط تکنیکی توسیع کی حمایت کرنی چاہیے۔ اس قرار داد نے 2015 کے جوہری معاہدے کی بنیاد رکھی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سفارتی طریقوں کو ایک نئی تفہیم اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم سفارتکاری کے لیے پرعزم ہیں لیکن ہم دھمکی یا جبر کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے۔
-
پابندیوں کے باعث انتقامی کارروائی کا خوف: جرمنی کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑ دینے کی ہدایت
اقوامِ متحدہ کی ممکنہ پابندیوں میں جرمنی کا بھی کردار ہے
مشرق وسطی -
ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں 'مثبت نہیں': چین
چین نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ یورپی ممالک کا شروع کردہ ایک طریقہ کار "مثبت نہیں" ہے ...
مشرق وسطی -
اگر "ٹریگر میکانزم" فعال ہوا تو ایران پر کون سی پابندیاں عائد ہوں گی ؟
یہ پابندیاں 2006 سے 2010 کے درمیان جاری چھ قراردادوں پر مشتمل ہیں
مشرق وسطی