جرمنی نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑ دینے اور وہاں کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ تہران کی انتقامی کارروائیوں میں پھنسنے سے بچ سکیں۔ چونکہ اقوامِ متحدہ کے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگانے میں جرمنی کا بھی کردار ہے تو اسے انتقامی کاررائیوں کا خدشہ ہے۔
ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث اس پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے جمعرات کو 30 روزہ عمل کا آغاز کیا جس سے کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا، "چونکہ ایرانی حکومت کے نمائندوں کو اس معاملے میں بارہا نتائج سے خبردار کیا گیا ہے اس لیے یہ امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کے جوابی اقدامات سے جرمن مفادات اور شہری متأثر ہوں گے۔"
"فی الحال تہران میں جرمن سفارت خانہ صرف محدود قونصلر مدد فراہم کر سکتا ہے،" اس نے خبردار کیا۔